اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 175 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 175

129 ۱- تقرری بطور امیر مقامی خلافت ثانیہ میں کئی مواقع پر آپ کو امیر مقامی مقررکیا گیا۔۲۱ جون ۱۹۱۸ء کو ڈلہوزی روانہ ہوتے وقت حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے تقریرا میر قادیان کے متعلق مختصر تقریر میں فرمایا :- میں نے اس وقت کچھ کہنے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔مگر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موافق کہ جب آپ باہر تشریف لے جاتے تو کسی کو امیر مقرر فرماتے۔امیر مقرر کرنا ہے۔آج کل لوگوں کے خیال بہت وسیع ہو گئے ہیں اس سے وسعت حوصلہ مراد نہیں بلکہ ذراسی بات کا بتنگڑ بنالیتے ہیں۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ آپ ہمیشہ مختلف امیر مقرر کرتے اس کے یہ معنی نہیں کہ ایک جس کو ایک مرتبہ امیر مقرر کرتے دوبارہ اس کو اس کی نا قابلیت کی وجہ سے مقرر نہ فرماتے۔بلکہ آپ کبھی ایک کو مقرر فرماتے پھر کبھی اسی کو۔اس میں حکمت یہ تھی کہ کوئی خاص شخص مدنظر نہ ہوتا تھا اور دوسرے جس کو مقرر کیا جا تا اس میں عجب پیدا نہ ہو۔ایک وقت حضرت ابو بکر امیر ہیں دوسرے وقت میں اسامہ بن زیڈ کے ماتحت ہیں۔اس طریق سے عجب پیدا نہیں ہوتا اور دوسرے سب میں اطاعت کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔کبھی آپ نے ایسے شخص کو امیر بنا دیا کہ بظاہر اس کی کوئی حیثیت نہ ہوتی۔اس میں یہی بستر تھا کہ آپ جماعت میں اطاعت اور انکساری پیدا کرنا چاہتے تھے اور عجب سے بچانا چاہتے تھے۔آپس میں اطاعت مشکل ہوتی ہے اس لئے آپ نے اطاعت سکھانے کے لئے یہ طریق اختیار کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر کام حکمت اور جماعت کی تعلیم اور تزکیہ پر مبنی تھا۔پس یہ امر بہت روشن اور بابرکت ہے۔اسی سنت کے موافق میں نے ارادہ کیا کہ اس مرتبہ اور امیر مقرر کروں۔اس سفر کے دوران میں قادیان کی جماعت کے لئے میں ایک امیر مقرر کرتا ہوں۔ابھی باہر میں نے اس سلسلہ کو رائج نہیں کیا۔صرف قادیان کی جماعت کے لئے یہ امیر ہے۔نہ کہ ساری جماعتوں کے لئے امیر۔اس سے سبق ملے گا کہ ہر جگہ کے لئے امیر مقرر ہوں۔۔۔فی الحال یہ قادیان کے متعلق اس دورانِ سفر کا انتظام ہے اور اس دورانِ سفر میں مولوی سید سرورشاہ صاحب امیر ہوں گے۔جس قدر جماعت کے لوگ ہیں اور ذمہ دار لوگ۔ضروری امور میں ان سے مشورہ کریں۔آپس میں محبت اور آشتی سے رہیں۔باہر مبلغ بھیجنے کا ان کا کام ہو گا۔اس تقر را میر کے بعد حضور نے احباب کو مصافحہ کر کے رخصت کیا اور ٹانگہ پر سوار ہو کر روانہ ہوئے۔“ ہیں ۲۱-۲-۱۸ کو حضور نے ڈلہوزی کے لئے روانہ ہونے سے پیشتر بعد عصر بہشتی مقبرہ میں احباب سمیت