اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 154 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 154

۱۵۸ والد ماجد - اخوان واقارب (۱) والد بزرگوار حصہ اوّل میں آپ کے والد ماجد کی اہلی زندگی اور ابتدا میں احمدیت کی وجہ سے مولوی صاحب کی شدید بقیہ حاشیہ کے ساتھ مبلغ دو ہزار و پیہ مہر پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے مؤرخہ ۷/جنوری ۱۹۶۵ء بعد نماز عصر مسجد مبارک میں پڑھایا۔(۲) محترمه سلیمہ بیگم صاحبہ (ولادت ۱۹۰۸ء) خان عبد الرحیم خان صاحب رئیس حصاری ضلع ہزارہ کے نکاح میں آئیں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اعلان نکاح کے موقع پر ذیل کا خطبہ فرمایا:- اس میں کوئی شک نہیں کہ مردوں کو ایک فضیلت اور افسری حاصل ہے اور قرآن کریم اور رسول کریم کی تعلیم سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مردوں کو عورتوں پر فوقیت ہے اور ان کو ایک درجہ دیا گیا ہے لیکن صرف ماتحتی اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ عورتیں محض ماتحتی کے لئے ہی پیدا کی گئی ہیں اور ان کا کوئی حق ہی نہیں ہے کیونکہ ماتختی بھی دو قسم کی ہوتی ہے ایک ماتحتی تو ماتحتی کے لئے ہوتی ہے اور اس کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ ماتحت ہی رہے۔“ ” جیسے جانوروں کی ماتحتی گھوڑے ہیں، گدھے ہیں، گائے ہیں، بکریاں ہیں۔ان کی ماتحتی کی اصل غرض ہی یہی ہے کہ وہ انسان کے ماتحت ہی رہیں تاکہ ان کی ماتحتی سے انسان سکھ اور آرام حاصل کریں۔خدا نے ان کو انسانوں کا مسخر بنایا ہے اور فرمایا ہے کہ ہم نے ان جانوروں کو تمہاری خدمت کے لئے پیدا کیا ہے اور تم کو ایسی طاقت دی ہے کہ تم ان پر حکومت اور افسری کر سکو اور ایک گھوڑا گدھا یا مرغی وغیرہ جانور اس لئے انسان کے ماتحت نہیں کئے گئے ہیں۔اگر وہ جانورز کی بھی ہیں اور ان میں عقل بھی پائی جاتی ہے تو بھی اس لئے کہ ان کی عقل اور ان کا ز کی ہونا انسان کے کام آوے۔مگر ایک ماتحتی مجبوری کی ماتحتی ہوتی ہے اصل مقصد اس سے ماتحتی نہیں ہوتا۔کیونکہ اصل مقصد کے حصول میں بغیر اس کے کامیابی نہیں ہوسکتی۔اس لئے وہ ماتحتی بطور علاج ہوتی ہے۔نہ بطور اصل مقصد کے جیسے تربیت اولا د بغیر اولاد کی ماتحتی کے بالکل نہیں ہو سکتی۔جب تک ماں باپ اولاد پر پورا تصرف نہ رکھیں۔اولاد کی تربیت کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔اب اولاد کی ماتحتی جانوروں کی ماتحتی کی طرح نہیں۔کیونکہ جانوروں کی ماتحتی تو انسان کے فائدہ اور اس کے سکھ اور آرام کے لئے ہے لیکن اولاد کی ماتحتی ماں باپ کے فائدہ کے لئے نہیں بلکہ اولاد کے فائدہ کے