اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 135 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 135

۱۳۹ سچ ہے کہ غناء غناء نفس کا نام ہے بلکہ ہزاروں دولتمند باوجود ہر قسم کی دولت سے مالا مال ہونے کے غرباء سے کہیں بدتر ہوتے ہیں۔آپ نے نکاح کے موقع پر میاں غلام رسول صاحب حجام کے ذریعہ سے دریافت کیا کہ رخصتانہ کے موقع پر کیا کچھ لانا چاہیئے۔بابا جی نے کہا کہ ہم سب کچھ دیں گے اور آپ کچھ بھی ساتھ نہ لائیں اور پندرہ روز سے زیادہ تاخیر نہیں کریں گے۔رخصتانہ کے لئے مولوی صاحب کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔حضرت حکیم فضل دین صاحب مہمانخانہ کے اوپر کے چوبارہ میں رہائش رکھتے تھے۔نیچے آئے اور مولوی صاحب کو دیکھ کر کہا کہ معلوم ہوتا ہے آپ رخصتانہ کے لئے جا رہے ہیں اور دس روپے دیئے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب سے آپ ملے تو فرمایا کہ برات میں کسی کو ساتھ نہ لے جائیں۔آج تیرہ دوست مجھ سے مل کرامرت سر گئے ہیں اور میں نے انہیں کہا ہے کہ امرتسر اسٹیشن پر ٹھہریں اور آپ کی برات میں شامل ہوں چنانچہ یہ لوگ اسٹیشن پر موجود تھے ان کے ہمراہ آپ ڈاکٹر عباداللہ صاحب کے مکان پر گئے اور چند اور دوست بھی شامل بقیہ حاشیہ: ان کی رخصت کے ایام میں مولوی سرور شاہ صاحب کو متعین کرنے کے لئے کہا تو نواب صاحب نے پوچھا کیا وہ بھی مولوی ہیں۔(کتاب ہذا صفحہ ۵۹) یہ جائے غور وفکر ہے۔اس زمانہ میں معدودے چند صحابی قادیان میں قیام رکھتے تھے ہر ایک دوسرے سے گہرے طور پر متعارف ہوتا تھا۔سب ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں استفاضہ کے لئے جمع ہوتے تھے اور علماء تو اور بھی کم یعنی دو چار ہی تھے۔نواب صاحب کا استعجاب ظاہر کرتا ہے کہ اس رنگ میں زیادہ دن نہیں گذرے کہ نواب صاحب بھی قادیان میں ہوں اور مولوی صاحب بھی ورنہ ذاتی تعارف حاصل ہو کر نواب صاحب آپ کے علم سے واقف ہو جاتے۔نتیجه ۱۴/ نومبر ۱۹۰۱ء کو نواب صاحب کے ہجرت کر آنے کے بعد ۲۵ دسمبر ۱۹۰۱ء تک ( جو کہ مولوی صاحب کی مراجعت از کشمیر کی آخری ممکن تاریخ بیان ہو چکی ہے) مولوی صاحب کا تقرر مدرسہ تعلیم الاسلام میں کیا گیا ہوگا۔چونکہ یہ استعجاب بوقت تقر ر تھا اس لئے ہو سکتا ہے کہ تقرری کا فیصلہ قبل از تاریخہائے جلسہ سالانہ ۱۹۰ء کیا گیا ہوا اور عملاً آپ کو مقر ر جنوری ۱۹۰۲ء میں کیا گیا ہو۔ریزولیوشن بابت پنشن (۹۱ ، مورخہ ۳۹-۳-۲۲ میں تاریخ آغاز ملازمت یکم مئی ۱۹۰۴ء درج ہے۔یہ ریز ولیوشن مجھے بعد میں ملا ہے۔