اصحاب احمد (جلد 5) — Page 88
لوگوں کو ضرور آنا چاہیئے۔“ مباحثہ کے ذکر پر فرمایا کہ شریر آدمیوں کا کام ہے کہ آنکھ ، کان ، ناک اور ٹانگ وغیرہ کاٹ کر پھر کلام کو ایک مسخ شدہ صورت میں پیش کرتے ہیں۔یہ مباحثہ بھی ہمارے لئے ایک فتح حدیبیہ کی صلح کی طرح کسی فتح کی بنیاد ہی نظر آتا ہے۔“ پھر فرمایا کہ ہماری جماعت جان و مال سے قربان ہے۔اگر ہمیں ایک لاکھ کی ضرورت ہو تو وہ مہیا کر سکتے ہیں۔اول بار عوام الناس نے علمی باتوں کو نہ سمجھا اس لئے اب اللہ تعالیٰ نشانوں سے سمجھاتا ہے۔‘۲۶ بٹالہ میں میاں محمد یوسف صاحب سے سے نومبر ۱۹۰۲ء کو مباحثہ کے متعلق گفتگو فرمائی۔۲۷ قصیدہ اعجاز احمدی کی تصنیف کا سبب اور تاریخ مباحثہ مدّ 11- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اعجاز احمدی میں تحریر فرماتے ہیں :- رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَانْتَ خَيْرَ الْفَاتِحِيْنَ (اے ہمارے خدا! ہم میں اور ہماری قوم میں سچا سچا فیصلہ کر اور تو ہی ہے جو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ) ایھا الناظرون ارشد کم اللہ۔آپ صاحبوں پر واضح ہو کہ اس مضمون کے لکھنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ موضع مد ضلع امرتسر میں باصرار منشی محمد یوسف صاحب کے میرے دو مخلص دوست ایک مباحثہ میں گئے۔ہماری طرف سے مولوی سرور شاہ صاحب مقرر ہوئے اور فریق ثانی نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو امرتسر سے طلب کر لیا۔اگر مولوی ثناء اللہ صاحب اس بحث میں خیانت اور جھوٹ سے کام نہ لیتے تو اس مضمون کے لکھنے کی ضرورت پیش نہ آتی لیکن چونکہ مولوی صاحب موصوف نے میری پیشگوئیوں کی تکذیب کی۔دروغگو ئی کو اپنا ایک فرض سمجھ لیا۔اس لئے خدا نے مجھے اس مضمون کے لکھنے کی طرف توجہ دلائی تا سیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد ۲۸ سفر میں عربی قصیدہ بنانا۔منشی محمد یوسف سے خطاب قادیان میں فصیل کا ایک ٹکڑا نیلامی میں حضرت اقدس کے نام خرید کیا گیا تھا۔ایک غیر مسلم نے اس کے ایک حصہ کی ملکیت کا دعویٰ دائر کر دیا۔اس مقدمہ میں شہادت کے لئے حضور بٹالہ کے نومبر ۱۹۰۲ء کو تشریف لے گئے۔چنانچہ اس سفر کے متعلق مرقوم ہے کہ : - آپ کی سواری ساڑھے نو بجے کے قریب بٹالہ پہنچ گئی۔۔۔ہم نے دیکھا کہ حضرت کچھ کاغذ پر راستہ میں لکھتے بھی تھے۔بٹالہ جا کر معلوم ہوا کہ آپ عربی قصیدہ کے