اصحاب احمد (جلد 5) — Page 56
۵۶ خواجہ فتح جو نے ایک مباحثہ کا انتظام کیا وہ بہت بڑا مالدار تھا اور علاقہ کے سلطان کو بھی اس کا دست نگر رہنا پڑتا تھا۔حضرت مولوی صاحب کے ماموں زاد بھائی اکرم خان کی مدد سے فتح ہو نے ایک بہت بڑی رقم مظفر آباد کی پولیس کو دینی کی تا کہ مولوی صاحب کو قتل کر دیا جائے اور پولیس دخل انداز نہ ہو۔اس رقم کا ایک حصہ وہ پہلے دے چکا تھا اور دوسورو پیدا اور دینے کے لئے وہ روانہ ہوا اور بمقام مظفر آباد اپنی لڑکی کے ہاں ٹھہرا۔صبح رمضان المبارک کی یکم تاریخ تھی۔اس کی لڑکی چاہتی تھی کہ وہ روزہ نہ رکھے تاکہ سفر میں تکلیف نہ ہو۔وہ ایک کمرہ میں گنڈی لگا کر سویا اور سحری کے وقت دروازہ کھٹکھٹایا گیا لیکن وہ بیدا ر نہ ہوا۔لڑکی پہلے ہی چاہتی تھی کہ اس کا باپ روزہ نہ رکھے۔اس لئے اس نے جگانے کی زیادہ کوشش کرنے سے منع کر دیا لیکن دن چڑھے تک وہ بیدار نہ ہوا تو تشویش ہوئی۔آخر بزور دروازہ کھول کر کمرے میں گھسے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ مرا پڑا ہے۔اس علاقہ میں لوگ سوتے وقت پگڑی اتار کر پاس رکھ لیتے ہیں اور بیدار ہوتے ہی سر پر رکھ لیتے ہیں اور پسوؤں کی وجہ سے پاجامہ اتار کر سوتے ہیں۔وہ بیدار ہو کر پگڑی سر پر رکھ چکا تھا اور ایک پاؤں میں پاجامہ ڈال چکا تھا اور دوسرے میں ڈالنے کے لئے پکڑا ہوا تھا اور اسی حالت میں اس کی جان نکل گئی۔منصوبہ یہ تھا کہ اسی دن اس نے بقیہ رقم پولیس کو دے کر گھوڑی واپس آکر مباحثہ میں شریک ہونا تھا۔مباحثہ مولوی صاحب کے والد صاحب کے استاد مولوی محمدحسین پسر عبدالستار سکنہ گمٹ ضلع مظفر آباد سے قرار پایا تھا۔ادھر سلطان صاحب اور فتح جو کا بیٹا محمد جو اور مولوی محمد حسین اور سامعین اور حضرت مولوی صاحب اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ فتح جو آئے اور مباحثہ شروع کیا جائے۔اتنے میں اس کی موت کی خبر آئی۔چنانچہ سلطان صاحب محمد جو کو مجمع میں پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور کہا کہ تمہارے باپ نے ایک شخص کو مروانے کا منصو بہ کیا تھا اس کے سرانجام دینے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ نے اسے مار دیا اور حضرت مولوی صاحب کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ یہ سب شرارت اکرم خاں کی ہے اس نے اکسایا تھا۔محمد جو کو اس منصو بہ کا علم تھا۔سلطان صاحب کی بات سن کر اس کا رنگ فق ہو گیا اور کوئی بات نہ بن پڑی۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ خاص سے اس منصو بہ کو خاک میں ملا دیا۔سلطان صاحب مخالف علماء سے خائف ہونے کی وجہ سے اس سے پہلے کوئی قدم نہیں اُٹھا سکتے تھے۔حضرت مولوی صاحب کے والد آپ کے احمدی ہونے کے ابتدائی زمانہ میں حضرت مولوی نورالدین رضی اللہ عنہ کی محبت کی وجہ سے مخالف نہیں ہوئے تھے لیکن بعد میں دیگر علماء زمانہ کی طرح حد سے زیادہ مخالف ہو گئے تھے اور اس منصوبہ کے وقت فتح جو نے ان سے یہ ذکر کیا تھا کہ اگر ہم لوگ مولوی صاحب ( آپ کے بیٹے ) کو قتل کرا دیں تو پھر ہم پر مقدمہ ہو گا جس کی وجہ سے ہم میں اور آپ میں بھی مقدمہ ہوگا۔اس لئے بہتر ہوگا کہ آپ اس