اصحاب احمد (جلد 5) — Page 51
۵۱ 16 پہلی دفعه قادیان آنا آپ موسم گرما کی تعطیلات میں پہلی بار قادیان آئے اور مہمان خانہ میں اُترے۔منتظمین نے بتایا کہ چونکہ مسجد چھوٹی ہے جگہ نہیں ملتی اس لئے مہمانوں کو پہلے جانا چاہئے۔آپ نے وضو کیا ہی تھا کہ اذان ہوگئی اور آپ اذان ختم ہونے تک مسجد مبارک میں جا پہنچے۔آپ نے سُنا ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک کھڑکی میں سے باہر آتے ہیں۔اس لئے آپ اس طرف بڑھے۔ابھی قریب ہی پہنچے تھے کہ حضور علیہ السلام باہر تشریف لے آئے۔آپ نے مصافحہ کیا۔حضور کے دریافت کرنے پر آپ نے بتایا کہ آپ پشاور سے آئے ہیں۔فرمایا آپ مولوی سرور شاہ ہیں۔آپ نے تصدیق کی۔دوسرے روز جب حضور علیہ السلام سیر کے لئے تشریف لے گئے تو حضرت مولوی نور الدین رضی اللہ عنہ پیچھے رہ گئے۔حضور ٹھہر گئے اور حضرت مولوی صاحب کو بلایا اور آپ کے آنے پر فرمایا کہ جب ان کا اشتہار پہنچا تو میں نے معمولی اشتہار سمجھ کر ایک دو سطریں دیکھ کر رکھ دیا۔دو پہر کو جب لیٹا تو پاس کوئی کتاب نہ تھی۔یہ اشتہار تھا اسے اٹھا کر پڑھنا شروع کیا۔ابھی چند سطریں ہی پڑھی تھیں کہ مجھے علم کی بو آئی اور پھر سارا پڑھا۔انہوں نے ایسی گرفت کی ہے کہ پیر صاحب ہرگز اس کا جواب نہیں دے سکتے ہیں نقشہ قادیان اور اسٹیشن خواب میں جب آپ ابھی ایبٹ آباد میں تھے اور احمدیت پر غور کر رہے تھے تو آپ نے خواب دیکھا کہ آپ قادیان میں آئے ہیں اور مسجد مبارک والا چوک، مسجد مبارک، دار ا صیح کا وہ حصہ جو مسجد سے ملحق ہے دیکھا اور مسجد سے دارا مسیح میں جس دروازہ سے داخل ہوتے ہیں اس میں ایک نالی دیکھی جسے حسی نالی کہتے ہیں۔یہ نالی دیوار کے اندر جاتی اور وہاں سے گذر کر نیچے ایک اور نالی میں گرتی دیکھی اور مرزا گل محمد والے مکان کے صحن میں ایک چارپائی پر ایک سرخ داڑھی والا ننگے سر کا شخص بیٹھا دیکھا۔چار پائی کے پائے کے ساتھ ایک کتا بندھا تھا اور بسراواں کے قریب ایک چھوٹا سا منارہ اور ریلوے اسٹیشن قادیان اس کی موجودہ جگہ پر دیکھا۔جب آپ قادیان آئے تو چوک میں پہنچتے ہی آپ نے چوک پہچان لیا۔چوک کے مغربی جانب پھاٹک اور اس کے مؤلف کتاب ہذا کے دریافت کرنے پر حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بتایا تھا کہ انہوں نے بھی محولہ بالا اشتہا ر انہی ایام میں پڑھا تھا۔مؤلف