اصحاب احمد (جلد 5) — Page 669
پیمائش نمبر ۲۸ شرقا غربا (اندر سے ) گیارہ فٹ دو انچ۔شمالاً جنوبا (اندر سے ) تئیس فٹ آٹھ انچ۔پیمائش نمبر ۲۹ شرقاً غرباً (اندر سے) سوا چھبیس فٹ۔شمالاً جنوباً (اندر سے) سوا پندرہ فٹ۔نمبر ۲۴ تا ۲۹ کی دیواروں میں سے نمبر ۲۵ کی جنوبی۔۲۸ کی غربی اور ۲۹ کی شرقی غربی اور شمالی دیوار میں غلافی اور ۲۶، ۲۷ کی جنوبی دیوار میں پختہ ہو چکی ہیں۔بقیہ دیوار میں قائم ہیں یعنی اولین حالت میں ہیں۔نمبر ۲۲ ، ۲۹ میں کالج کی کلاسوں کے لگنے کا ذکر کیا جاچکا ہے۔اصحاب احمد جلد دوم میں حضرت مولوی محمد دین صاحب کا بیان شائع ہوا تھا۔غالبا درزی خانہ والا کمرہ کلاس روم تھا۔(صفحہ ۱۸۲) ممکن ہے کبھی اس میں بھی کلاس لگتی رہی ہو۔(نمبر ۳۰) یہ ڈسپنسری تھی جس کے انچارج ڈاکٹر شیخ عبداللہ صاحب نومسلم تھے۔( بیان بھائی جی ) وہ ڈاکٹر کے علم سے معروف گوکمپونڈر تھے۔قادیان ہجرت کر آنے سے قبل انجمن حمایت اسلام لاہور کے پاس بطور کمپونڈ ر ملازم تھے۔۱۹۰۷ء میں میں اور مکرم عبدالمجید خان صاحب شاہجہانپوری حال مقیم قلات شیخ صاحب مکرم سے ڈسپنسری کا کام اسی ڈسپنسری میں سیکھتے تھے۔(از مؤلف) شیخ صاحب کا نام ۳۱۳ اصحاب کی فہرست مندرجہ ضمیمہ انجام آتھم میں ۲۱۱ نمبر پر شیخ عبداللہ دیر نچند صاحب کمپونڈر کے الفاظ میں مرقوم ہے اور سکونت لا ہور درج ہے۔آپ تقسیم ملک کے وقت مغربی پاکستان ہجرت کر کے جانے پر مجبور ہوئے اور کئی سال قبل وہاں وفات پائی۔یہ کمرہ ۳۰ بعد میں تا تقسیم ملک بطور احمد یہ بلڈ پواستعمال ہوتا تھا۔اصحاب احمد جلد دوم میں کالج کے تعلق میں ایک صحابی کا یہ بیان درج ہے کہ نواب صاحب نے مدرسہ کی ڈسپنسری کا علیحدہ انتظام اور ڈاکٹر عبداللہ صاحب ( نومسلم ) کو ملازم رکھا جو بورڈنگ کے ٹیوٹر بھی تھے۔(صفحہ ۱۸۲) پیمائش نمبر ۳۰۔شرقا غربا (با ہر سے ) ہیں فٹ دس انچ۔شمالاً جنوبا با ہر سے ) پندرہ فٹ ۴ اینچ نمبر ۲۹، ۳۰ کی درمیانی گلی ساڑھے آٹھ فٹ چوڑی ہے۔اس وقت اس کی مشرقی دیوار پکی اور غربی غلافی بن چکی ہے۔دیگر دونوں دیوار میں ابھی تک خام اور اُسی حالت میں ہیں۔(نمبر ۳۱) یہ کنواں حضرت مہدی ومسیح موعود کے عہد مبارک میں بنایا گیا تھا۔(نمبر ۳۲) بیان مولوی صاحب ابتداء میں صرف یہ صحن بطور بورڈنگ ہاؤس استعمال ہوتا تھا اور اس کے ہر دو طرف چوبی پھاٹک ہوتے تھے۔پیمائش صحن مغربی شرقا غر باسوا اٹھارہ فٹ۔شمالاً جنوباً پونے چھیالیس فٹ۔