اصحاب احمد (جلد 5) — Page 650
شروع کی۔اور ان کے بتوں کی قربانیوں کی دعوتوں میں شریک ہوئے اور ان کے معبودوں کو سجدہ کیا۔اور لعل فعور کو ملے۔تب خداوند کا قہر بنی اسرائیل پر بھڑ کا اور وبا نازل کی اور موسیٰ نے بنی اسرائیل کے حاکموں کو حکم دیا کہ تم میں سے ہر ایک اپنے ان لوگوں کو قتل کرے جو لعل فعور کو ملے۔اوروبا میں چوبیس ہزار مرے۔اس کے بعد خداوند نے بنی اسرائیل کی مردم شماری کا حکم دیا اور وہ ہیں سال سے اوپر شمار کئے گئے۔اور جو لوگ مصر سے نکل کر دشت سینا میں دوسرے سال کے دوسرے مہینہ کی پہلی تاریخوں میں شمار کئے گئے تھے۔ان میں سے سوائے یوشع بن نون اور کالب لغینہ کے ایک بھی شمار میں نہیں آیا۔کیونکہ وہ خدا کے فرمانے کے مطابق سب مر چکے تھے۔اس بیان سے اس قدر ثابت ہوا کہ سیمون اور عوج کے شہروں کے لینے سے پہلے تو بنی اسرائیل نے جن کی روٹیوں سے کراہیت کا اظہار کر کے خداوند اور موسیٰ کا مقابلہ کیا تھا۔اور ان کے فتح کرنے اور ان پر قابض ہونے کے بعد انہوں نے خداوند کی سخت حکم عدولی کی اور بجائے شکر کے سخت کفر کیا۔تب خداوند نے ان پر وہ رجز نازل کیا جو کہ پہلے کبھی ایسا نازل نہ ہوا تھا۔جس سے وہ سب نا فرمان جماعت تباہ ہو کر ختم ہوگئی اور اس کے بعد جس قد رفتوحات ہوئیں وہ ان کی ذریت نے کی تھیں۔پس قرآن مجید سے ثابت شدہ قرائن اور توریت کے بیان کردہ واقعات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سیمون یا عوج کا شہر مراد ہے توریت کے پڑھنے سے پتہ لگتا ہے کہ قریباً ہر ایک سفر پر ان کو بار بار تاکید سے کہا جاتا تھا کہ اگر تم میری شریعت اور میرے حکموں کی فرمانبرداری کرو گے تو میں تم پر بڑے بڑے فضل کروں گا۔لیکن اگر تم میری نا فرمائی کرو گے تو پھر میں تم کو سخت سزا دوں گا۔پھر یہ بھی ثابت ہے کہ ایک طرف تو خدا نے وہ ملک ان کو دینے کا وعدہ کیا ہوا تھا دوسری طرف مصر سے نکلتے ہوئے لوگوں سے جو بیس سال سے اوپر تھے ان سب کو بیابان میں ہی ہلاک کرنا تھا۔اور جس طرح حضرت آدم کو بہت سے احکام کے پابند کرنے سے پہلے ایک معمولی سا حکم دے کر خلاف ورزی کی عبرتناک نظیر پیش کر دی تھی۔اسی طرح خداوند کریم ہمیشہ کیا کرتا ہے۔پس ان سب امور پر نظر کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فاتح اولاد کے لئے ہلاک ہونے والے باپ دادوں سے ایک نظیر قائم کرنے کے لئے خداوند کریم نے ہلاک ہونے والوں کو تھوڑ اسا ملک دے کر اپنے احکام کی خلاف ورزی سے سخت ڈرایا اور پیروی کرنے پر انعام کا وعدہ دیا اور ہلاک ہونے والوں نے حکم عدولی کی تو ان کو اپنے وعدہ کے مطابق ہلاک کر کے ان کی مشاہدہ کرنے والی ذریت کی آنکھوں کے سامنے بڑی بھاری عبرتناک نظیر کھڑی کر دی تا کہ وہ کم از کم ایک دفعہ اس ملک کو فتح کر کے خدا کے وعدہ کو پورا کر دیں۔اور هذه القرية اور الباب فرما کر یہ بتایا کہ اس تھوڑی اور حقیر چیز پر بھی جب تم شکر گزار اور فرمانبردار ہو گے تو ہم اس میں بڑی برکت ڈالیں گے کہ اول تو یہی کافی سے زائد ہو جائے گا۔اور پھر ہم اس سے زائد بھی دیں گے۔اور اس حقیر و ذلیل چیز پر بھی تم تکبر وسرکش اور شہوت پرست