اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 648 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 648

۶۵۴ اور کہا ہے کہ یہ یتیھون کے بعد ہوا تھا۔حضرت موسیٰ کے زمانہ میں یا یوشع بن نون کے عہد میں اور و دیتیھون کے وعید سے بھی پہلے ہوا تھا۔اور یہ کہ محض اباحت کے لئے ہے وجوب کے لئے نہیں۔جیسا کہ کلوا کا ساتھ ملا نا بتاتا ہے اور وہ وجوب کے لئے تھا جیسا کہ لاترتدوا کا ملانا دلالت کرتا ہے۔اور بعض نے کہا کہ دونوں امر ایک ہی ہیں۔اور تبدیل سے مراد فقط نہ ماننا ہے۔اور دونوں وجوب کے لئے ہیں۔لیکن میں کہتا ہوں یہ سب مشکل تو اسی وجہ سے ہوئی کہ انہوں نے ایک ہی محل کے دخول کا حکم دونوں سے سمجھا۔پر اصل بات یہ ہے کہ ارض مقدسہ عام اور بیت المقدس خاص ہے۔پس یہ امر تو خاص میں داخل ہونے کے لئے ہے اور وہ عام ارض مقدس میں داخل ہونا لازم کرتا ہے۔اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے اریحا مراد ہے جس کو بائیل میں بریکو کہا گیا ہے جو کہ حضرت موسیٰ کے بعد یوشع بن نون نے پہلے پہل فتح کی تھی۔اور مولانا حضرت امیر المؤمنین خلیفتہ اسیح علیہما السلام نے فرمایا ہے کہ ھذہ کے ساتھ اشارہ کرنے اور مخاطبوں کو ملزم ٹھہرانے سے میرے خیال میں یہ آتا ہے کہ اس سے مدینہ منورہ مراد ہے۔اصل بات یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو بائیل سے اور پہلے انبیاء کی زبانی روایتوں سے نبی کریم کی بعثت کا بخوبی علم تھا۔اور یہ بھی بخوبی جانتے تھے کہ آپ بنی اسمعیل سے معبوث ہوں گے۔اور یہ بھی کہ ان بنی اسمعیل سے جو کہ مکہ میں رہتے ہیں اور یہ بھی کہ پھر آپ ہجرت فرما کر مدینہ کو منور فرمائیں گے۔اور پھر ان دینی اور دنیوی ترقیات کی بشارات کو بھی جانتے تھے جو کہ حضور کے اصحاب کی نسبت تھیں تو موعود انبیاء کی نسبت مقرر نہ ہونے کے باعث ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ بشارت کے کچھ عرصہ بعد ہر ایک زمانہ میں لوگ ان کی آمد کے امیدوار ہی رہتے ہیں اسی طرح حضور کی آمد کا جب کچھ بنی اسرائیل کو خیال پیدا ہوا تو وہ اپنے وطنوں کو چھوڑ کر مدینہ منورہ اور اس کے قرب وجوار میں آگئے تھے تو ان کو حکم ہوا تھا کہ وہاں پر جاتے ہو تو پھر سنبھل کر رہنا لیکن انہوں نے اس حکم کا کچھ پاس نہ کیا۔” میں نے اس بات کا پتہ لگانے کے لئے سفرات بنی اسرائیل کو پڑھا کسی خاص نسبت اور نہ کسی خاص دروازہ کی نسبت کوئی تصریح پائی پھر قرآن مجید پر نظر کی تو کہیں اس کے متعلق کوئی تسلی بخش قرینہ نہ پایا۔ہاں بعض باتیں جو مجھے معلوم ہوتی ہیں۔وہ کہ دیتا ہوں۔اول جہاں کہیں اس بات کا ذکر آیا ہے۔وہاں ضرور هذه القرية ہی آیا ہے جو یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جن کو داخل ہونے کا حکم دیا تھا وہ بستی ان کے نزدیک تھی۔اور وہ اس کو جانتے تھے۔دوم جہاں کہیں اس کا ذکر ہے اس کے پہلے من اور سلوٹی کا بھی ذکر ہے جس سے کم از کم یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اس کو اس سے کچھ تعلق ضرور ہے۔سوم جہاں کہیں اس کا ذکر ہے وہاں پر دخول اور سکونت کے بعد کـلـوامـنـهـا حيث شئتم کا بھی ذکر ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے وہ من اور سلویٰ کھاتے تھے۔اور اس کی نسبت ان کو شکایت ہوئی ہے تو خداوند کریم کسی بستی میں ان کو داخل کر کے حسب منشاء