اصحاب احمد (جلد 5) — Page 645
۶۵۱ ہے اور اس وعدہ کا ذکر محض اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے ہے کہ باوجود موسی" کی اس قدرلمبی صحبت کثرت مواعیظ توحید اور مذمت شرکت کے اور پھر کثرت کے ساتھ ایسے نشانات دیکھنے کہ (جو کہ معرفت الہیہ کے چشمے تھے اور موسیٰ کی صداقت اور منجانب اللہ ہونے کے لئے مصفاء ترین آئینہ تھے ) پھر بھی موسی“ اپنے صادق الوعد رب کے ایک وعدہ کی بناء پر جب چند مقر ر اور معین ایام ( چالیس دن ) کے لئے تم سے علیحدہ ہوا تو تم سے گوساله پرستی جیسا گنده جرم سرزد ہوا۔اور اگر کتاب کا یہاں پر ذکر ہوتا۔جس کا وعدہ کیا تھا تو ضرور انعام ہی کا خیال آتا اور اصل مقصد فوت ہو جاتا۔مفسرین نے لکھا ہے کہ خداوند کریم نے یوم پریل کو کیوں اختیار فرمایا ہے حالانکہ جیسا رات میں وہاں پر رہنا تھا ایسا ہی دن میں بھی وہاں پر ہی رہنا تھا۔اور لیل کا لفظ تو دن کو شامل نہیں پر یوم کا لفظ رات کو بھی شامل ہو سکتا ہے۔کیونکہ یوم جیسا اس دن پر بولا جاتا ہے جو کہ رات کے مقابل ہے ایسا ہی اس دن پر بھی بولا جاتا ہے جو رات اور دن کا مجموعہ ہے۔پس بعض نے تو کہا کہ عربی مہینے قمری ہونے کی وجہ سے چونکہ رات سے شروع ہوتے تھے۔اس لئے معیادوں کی ابتداء راتوں سے ہوتی تھی۔بعض نے کہا کہ ظلمت چونکہ نور پر مقدم ہے لہذا رات دن پر مقدم ہے۔جیساواية لهم اللیل میں رات کو پہلے ذکر کر کے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔بعض نے کہا ہے کہ لیل فرما کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ روزوں میں وصال کرنا تھا۔یعنی رات کے وقت بھی روزہ ہی رکھا جاتا تھا۔اور بعض نے کہا کہ اس میں قیام لیل کی طرف اشارہ تھا۔یہ وہ وجوہات ہیں جو مفسرین نے لکھے ہیں۔لیکن میرے خیال میں نہیں آسکتا کہ عقل مند انسان کو تسلی تو کیا اپنی طرف متوجہ بھی کر سکتی ہوں۔پہلی دوو جھوں کی صحت کا پتہ تو اس سے لگ سکتا ہے کہ ان کا درست ہونا اس امر کو ستلزم ہے کہ زبان عرب میں کوئی میقات و میعاد دن سے نہ ہو۔بلکہ رات سے ہو۔حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں کہیں رات اور دن دونوں ہوتے ہیں وہاں پر میعاد بیان کرتے ہوئے عموماً یوم ہی بولا جاتا ہے۔اور تیسری چوتھی وجہ کا پتہ اس سے لگ جاتا ہے کہ لیل سے یا پہاڑ پر لیل گزارنے سے نہ صوم یا وصال صوم کی طرف انتقال ذہن ہوتا ہے۔اور نہ اس کے ساتھ قیام لیل ہی لازم ہے کہ اس سے وہ مفہوم ہو۔بات تو بالکل ظاہر تھی معلوم نہیں کہ اس قدر دور جانے کی کیا ضرورت پیش آئی اور وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پہاڑ پراکثر جایا کرتے تھے۔جیسا کہ توریت سے ثابت ہے پر یہی معمول تھا کہ دن کو گئے اور رات کو اپنے ڈیرے پر واپس آگئے۔ایسا نہ ہوتا تھا کہ رات بھی وہیں کاٹیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ پہاڑ پر مسافر کے لئے رات گزارنی بھی مشکل ہوتی ہے۔اور خداوند تعالیٰ کا ایک تو یہ کلام ہے جس میں بنی اسرائیل کو اس وعدہ کی خبر دیتا ہے دوم وہ کلام تھا جو کہ حضرت موسیٰ سے وعدہ کرتے ہوئے بولا تھا۔اس بات کا تو ہم کو علم نہیں کہ حضرت موسیٰ سے کیا کلام بولا تھا پر اگر اس میں بھی لیل کا ہی ذکر ہوا ہو۔پس اس کی وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ