اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 636 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 636

۶۴۲ قوم ہو جاوے گا۔غرضیکہ اس کے ساتھ وہ ایسا عظیم الشان اور عزیز الوجود انسان ہو جاوے گا کہ اور کسی طریق کے ساتھ ایسا ہر گز نہ ہو سکے گا۔اور ظاہر ہے کہ ایسے امر کو ہر ایک چاہتا ہے۔پس کیا وجہ ہے کہ تم نہیں چاہتے اور ان کے بعد ان کے معاندوں نے اسی جواب کو ایک اور رنگ میں پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ دنیا میں بہت سی کتابیں ہیں اور ان کے مصنفین نے ان پر ناز بھی کیا ہے۔اور پھر بھی لوگوں نے ان کی مثل نہیں بنائی۔بلکہ شیخ سعدی نے تو اپنے شعروں کی نسبت یہ بھی کہا ہوا ہے کہ شاعران گفتہ شعر ہائے پر نمک۔کس نہ گفتہ شعر ہمیچوں سین و عین دال و یے۔اور پھر بھی کسی نے اب تک ان کے شعروں کی مثل نہ بنائی اور نہ اس کی طرف توجہ کی ہے تو کیا اس سے ثابت ہو گیا کہ وہ کتا بیں یا شیخ سعدی کے شعر خدا کے کلام ہیں یا یہ کہ حقیقت میں ان کی مثل بن سکتی ہی نہیں۔اور خدا تعالیٰ کی چیزوں کی مانند یہ بھی بے مثل ہیں ہرگز نہیں۔پس اسی طرح قرآن نے اگر یہ دعویٰ کیا۔اور ایک عرصہ دراز تک کسی نے اس کی مثل نہ بنائی اور نہ بنانے کا ارادہ کیا تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ خدا کا کلام ہے اور یہ خدا کی چیزوں کی طرح بے مثل ہے۔اور اس کی مثل بنانے سے سب دنیا عاجز ہے۔یہ جواب بھی بعینہ پہلا ہی جواب ہے۔فقط اس میں شیخ سعدی وغیرہ کی مثال پیش کر دی ہے۔پس چونکہ اس کا مطلب اور مضمون وہی ہے جو پہلے کا ہے۔لہذا اس کا جواب بھی وہی ہے جو پہلے کا ہے ہاں اس میں مثال ایزاد کی ہے لیکن جیسا کہ ہم نے بتایا ہے کہ اصل مضمون غلط ہے۔اسی طرح ہم بتاتے ہیں کہ یہ مثال بھی بالکل غلط ہے بلکہ اس کے پیش کرنے والے کی جہالت اور نادانی ثابت کرنے کے لئے یہی مثال کافی کیا کافی سے بھی زائد ہے کیونکہ جاہل بھی جانتا ہے کہ اول تو ان مصنفین نے ایسا عظیم الشان دعوی ہی نہیں کیا کہ خدا کا کلام ہے اور نہ کسی نے یہ دعوی کیا ہے کہ میری کتاب کی کسی جز کی مثل بھی نہیں لا یا بالا ؤ اور اپنے مددگاروں کو بھی بلالو اور شیخ سعدی نے اگر کہا ہے یہ کہا ہے کہ کسی نہ گفتہ جس کے معنی یہ ہیں کہ گزشتہ زمانہ کے شاعروں میں سے کسی نے میرے شعروں جیسے شعر نہیں کہے اور یہ اس کی ایک بڑ ہے گزشتہ گئے گزر چکے اور اگر اس وقت ہوتے بھی تو پہلے کہے ہوئے شعروں کو ثابت کرتے کہ یہ سعدی کے شعروں جیسے ہیں نئے شعر تو وہ بھی نہ کہہ سکتے تھے۔کیونکہ شیخ سعدی نے تو ان کے پہلے کہے ہوئے شعروں کی نسبت کہا کہ وہ میرے شعروں جیسے نہیں ہیں نہ یہ کہ کوئی شاعر میرے شعروں جیسے شعر بنالائے۔اور کہ وہ ہرگز نہ بنا سکے گا۔پھر ان کی یا شیخ سعدی کی مخالفت پر کس نے اپنا مال و جان صرف کیا اور پھر ان کا یا شیخ صاحب کا کون سا مرتبہ تھا کہ جس کا سارا دارو مدار انہوں نے مثل لانے اور نہ لانے پر رکھ دیا تھا۔اور لوگوں کو محمد رسول اللہ کی رسالت کی طرح ان کا مرتبہ نا پسند اور مضر معلوم ہوتا تھا تا کہ لوگ اس مرتبہ سے گرانے کے لئے ان کے کلام کی مثل لاکر ان کے مرتبہ کی اس بنیاد کو اکھاڑ دیتے جس پر کہ اس کا سہارا تھا۔پھر ان معاندوں کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ان کے کلام کی کوئی مثل نہیں لایا۔بلکہ ضرور لایا