اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 627 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 627

۶۳۳ لا ریب دعوی کے شواہد - وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ (البقرہ ۳۶) کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ خواہ کیسی ہی کھلی اور ظاہر چیز ہو۔جس میں مشاہدہ یا غور وفکر کے بعد بالکل شک نہ رہ سکتا ہو۔اس پر بھی اگر کوئی شخص توجہ نہ کرے گا اور نہ اس کو دیکھے گا تو ضرور ہی وہ شک میں پڑے گا۔مثلاً سورج کا وجود اور طلوع نہایت ہی کھلی اور واضح چیز ہے یہاں تک کہ وضاحت میں ضرب المثل ہے لیکن اس کی وضاحت اسی وجہ سے ہے کہ انسان اس کو اور اس کے نور کو مشاہدہ کرتا ہے لیکن جب ایک انسان اندھیری کوٹھڑی کے اندر دروازے بند کر کے بیٹھا یا لیٹا ہوا ہو۔اور سورج اور اس کی روشنی کو مشاہدہ نہ کرے تو اس کو سورج کے طلوع میں بھی شک ہوسکتا ہے۔پس جب لوگ یہ کہا کرتے ہیں کہ سورج کے طلوع کے بعد اس کے طلوع میں کسی کو ہرگز شک نہیں ہوتا تو اس کے یہ معنی ہر گز نہیں ہوتے کہ خواہ کوئی اندھیرے مکان میں ہو تو بھی اس کو شک نہیں ہوسکتا۔بلکہ اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ جب سورج کا طلوع ہوتا ہے۔اور صحیح الحواس اس کے آثار کو مشاہدہ کر لیتے ہیں تو بوجہ وضوح آثار کے اس کے طلوع میں وہ شک نہیں کر سکتے ہیں بخلاف ان اشیاء کے جو خطی الآثار ہوتی ہیں کہ ان کے آثار کے مشاہدہ کرنے کے بعد ان کے وجود میں شک پڑسکتا ہے۔پس اس اصل سے لاریب فیہ کے معنے خوب کھل جاتے ہیں۔اور وہ یہ ہیں کہ قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے کے آثار و شواہد اور دلائل اور قرائن اس قدر کثرت اور وضاحت کے ساتھ ہیں کہ ان کے مشاہدہ اور ان کی طرف توجہ کرنے کے بعد ممکن نہیں کہ کسی کو اس کے منجانب اللہ ہونے میں شک ہو سکے نہ یہ کہ جولوگ اس کے شواہد و آثار اور دلائل و قرائن سے بالکل غافل اور بے خبر ہوں۔ان کو بھی اس میں شک نہیں ہوسکتا۔۔۔۔خداوند کریم کے ذمہ تو اسی قدر ہو سکتا ہے کہ وہ قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے کے لئے نہایت قویٰ اور واضح ترین آثار و شواہد قرار دے اور لوگوں کو وہ حواس و قوی دے جن کے ساتھ وہ ان کو مشاہدہ کر سکے اور موقعہ بھی دے۔اور یہ لوگوں کا فرض ہے کہ خداوند قولی سے ان آثار کا مشاہدہ کریں۔اور اگر وہ نہ کریں گے تو یہ ان کا نہایت سخت اور مضر تر قصور ہے تو جب لوگوں کا یہ فرض ہے کہ وہ قرآن مجید میں اور اس کے منجانب اللہ ہونے کے شواہد میں غور و فکر کریں تو جب اس کے منجانب اللہ ہونے کی نسبت ، ریب، عدم ریب کا ذکر ہوگا تو ان دونوں فرضوں کو ادا شدہ ملحوظ رکھ کر بات کی جاوے گی۔اور یہ بالکل سچا اور عام قاعدہ ہے۔مثلاً جب کسی نسخہ طبی کی عمدگی کے متعلق یہ بحث ہوگی کہ اس کے عمدہ ہونے میں کچھ شک نہیں تو ضروری ہوگا کہ اس کی عمدگی