اصحاب احمد (جلد 5) — Page 585
۵۹۱ اور ہندہ کا باپ بھی اس کو پسند کرتا ہے تو کیا شرعا یہ طلاق صحیح اور فافذ ہوگی۔فتویٰ : فقہاء تو یہی فتویٰ دیتے ہیں کہ نابالغ کا ولی طلاق نہیں دے سکتا لیکن ان کا یہ فتولی کوئی شرعی ثبوت اپنے ساتھ نہیں رکھتا بلکہ محض خیالی بات پر مبنی ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فتویٰ ہے کہ نابالغ کا ولی طلاق دے سکتا ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ نابالغ جب تک بالغ ہوکر اس نکاح نابالغی کوخودمنظور نہیں کر لیتا۔تب تک یہ نکاح پختہ اور لازمی قرار پاتا ہی نہیں اس وجہ سے نابالغہ کو خیار بلوغ شرعاً حاصل ہے کہ وہ بالغ ہو کر اپنے نابالغی کے نکاح کو نا منظور اور رد کر سکتی ہے تو جب یہ نکاح پختہ اور لا زم ہی نہیں تو پھر نا بالغ کا ولی اس کو فتح کر سکتا ہے۔(۳۳-۰۹-۰۹) کیا نابالغ لڑکے کا باپ طلاق دے سکتا ہے استفتاء۔کیا نابالغ لڑکے کی طرف سے اس کا باپ طلاق دے سکتا ہے۔فتوی: دوسرے مذاہب نے نابالغ کی طلاق یا اس کے ولی کی طلاق کو نا جائز اور غیر واقع قرار دیا ہے۔مگر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نابالغ کے والد کو طلاق دینے کو جائز اور درست قرار دیا ہے۔اور دوسرے مذاہب کی غلطی اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کی صحت اس قدر واضح اور ثابت ہے کہ اس کے لئے کسی مزید دلیل کی ضرورت نہیں بلکہ صحیح فہم کی ضرورت ہے۔یہ سب جانتے ہیں کہ نابالغ کو اپنے معاملات میں اسلام نے اختیار نہیں دیا۔بلکہ اس کے ولی کو اختیار دیا ہے یعنی جو جو معاملات ایک عاقل بالغ خود کر سکتا ہے۔وہ تمام معاملات نابالغ خود نہیں کر سکتا۔بلکہ وہ معاملات بوساطت ولی طے ہوں گے۔پس اس مسلم قاعدہ سے صرف اس امر کو باہر کیا جاسکتا ہے کہ جس کو قرآن کریم یا صحیح حدیث اس سے مستثنیٰ کرے۔اور جس کو قرآن یا حدیث نہ نکالیں اس کے نکالنے کا اختیار نہ کسی عالم کو ہے اور نہ کسی امام کو۔اور نا بالغ کا نکاح اس کی بیع و شری کی طرح ایک معاملہ ہونے کی وجہ سے اس مسلمہ شرعی قاعدہ کے نیچے داخل ہے اور کسی آیت یا حدیث صحیح نے اس کو اس قاعدہ سے مستثنیٰ نہیں کیا۔لہذا جس طرح اس کا ولی اس مسلمہ قاعدہ کی رو سے نکاح اور بیع و شرکی کر سکتا ہے اسی طرح طلاق بھی دے سکتا ہے۔(۳۶-۰۶-۲۵) ۱۷۔کیا سونے کا دانت بنانا یا خول چڑھانا جائز ہے استفتاء۔کیا علاج کے طور پر یا بعض ضرورتوں کی وجہ سے کسی کا سونے کا دانت بنانا اور لگانا یا اس پر سونے کا خول چڑھانا جائز ہے یا نہیں؟