اصحاب احمد (جلد 5) — Page 584
۵۹۰ ضرار قرار دیا ہے کہ جس سے تفریق بین المسلمین ہوتی ہو۔اور مسجد ضرار گرانے کے قابل ہوتی ہے کیونکہ مسجد اور نماز باجماعت مومنوں اور اتحاد پیدا کرنے کے لئے ہے تو جب ان سے بجائے اتحاد کے تفریق ہوتی ہو تو یہ ممنوع اور نا جائز ہو جاتی ہے۔۲- حدیث میں ہے لَا ضَرَرَوَلَا ضَرَار فِی الْاِسلام 19 اور اس میں شک نہیں کہ درس کے نزدیک جب نماز بالجبر ہوگی تو ضرور ضرر پہنچائے گی۔اور ایسے مضر افعال اسلامی افعال نہیں ہوتے جیسے کہ حدیث مندرجہ بالا سے ظاہر ہوتا ہے بلکہ وہ کسی اور نقص کا نتیجہ ہوتے ہیں۔چونکہ یہاں پر درس باجماعت نماز کے بعد ہے لہذا درس ہوتے ہوئے جو نماز با جماعت درس کے پاس ہی شروع ہوگی۔وہ ضرور دوسری جماعت ہوگی۔اور دوسری جماعت ممنوع اور غیر اسلامی فعل ہونے کے اس تختلف عن الجماعة کا نتیجہ ہے جس پر رحمة للعالمين متخلفین۔کے گھر ان کے اوپر چلانا چاہتے تھے۔اور وہ متخلفین طفل تسلی کے طور پر اپنے تخلف کے قصور کا احساس غیر شرعی جماعت ثانیہ کے ساتھ مٹانا چاہتے ہیں لیکن اگر وہ اس ناجائز جماعت ثانیہ کا ارتکاب نہ کرتے۔جبکہ امیر معاویہ نے اس تخلف کے بعد اس کا ارتکاب نہیں کیا تھا تو اس تخلف کے قصور کا احساس ان کو ان کے دلوں میں حضرت امیر معاویہ کے احساس کی طرح پیدا ہوتا اور وہ احساس ان کے لئے بھی اسی طرح از دیا راجراء اور عفو کا موجب بنتا۔جیسا کہ حضرت امیر معاویہ کے لئے تھا۔(۳۷-۰۳-۲۲) ۱۴- متوفی کی خاطر کھانا کھلانا استفتاء کسی متوفی کے لئے مساکین کو کھلانا کھلانا یا کپڑے پہنانا یا کچھ دینا جائز ہے۔اور اس سے اس متوفی کو کچھ فائدہ ہوتا ہے یا نہیں اور خاص طور پر چالیسویں دن کھانا کھلا نا زیادہ بہتر ہے؟ فتوی: کسی وفات شدہ کے لئے مساکین اور غرباء کو کھانا کھلانا ، پہنانا اور دینا جائز ہے اور مفید ہے لیکن چالیسویں دن یا اور خاص دنوں میں ( جو کہ لوگوں نے مقرر کر رکھے ہیں ) کھانا کھلانا ایک بدعت ہے جو شرعاً ناجائز ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایسا فرمان یا خلفاء یا صحابہ کا ایسا کرنا ہرگز ثابت نہیں۔۱۵۔کیا نا بالغ کا ولی طلاق دے سکتا ہے استفتاء۔زید نے اپنی شیر خوار بچی ہندہ کا نکاح عمرو کے بیٹے خالد کے ساتھ جس کی عمر اس وقت سات سال تھی کر دیا اور خالد کے والد نے اس نکاح کو خالد کے لئے منظور کیا۔لیکن اس نکاح سے چھ ماہ بعد زید و عمرو دونوں اس نکاح کو فسخ کرنا چاہتے تھے با بلفظ دیگر عمر اپنے بیٹے خالد کی طرف سے ہندہ کو طلاق دینا چاہتا ہے