اصحاب احمد (جلد 5) — Page 566
۵۷۲ کو دیکھو جس قوم کو ہدایت دینے کے لئے آئے تھے وہی ان کو صلیب دلاتی ہے اور اپنے حواریوں پر ان کو اعتماد تھا۔انہی میں سے ایک چند کھوٹے روپے لے کر پکڑواتا ہے۔اور ان میں سے جو بڑا تھا وہ ان پر لعنت بھیجتا ہے۔حضور نے اس وقت ایسے پُر در دطریقہ سے اس کو بیان فرمایا کہ حضور پر بھی ایک رقت طاری تھی اور جس قدر حضور کے خدام موجود تھے ان میں سے اکثر کی آنکھیں پُر نم تھیں اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ اس (امر ) نے میری توجہ کو اس قدر کھینچا ہوا ہے کہ میر صاحب نے بے شک میرے پاس آکر کچھ کہا تھا۔میرے کان میں کچھ آواز پڑ رہی تھی مگر اس کی طرف اس قدر بھی متوجہ نہیں ہو سکا کہ مجھےسمجھ آتا کہ انہوں نے کیا کہا ہے۔‘ ۵۶ حضرت مسیح موعود کی نظر فیض اثر میں آپ کو مہمان خانہ سے دار المسیح میں بلوا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا (اس وقت مولوی صاحب کی عمر ستائیس سال کی تھی اور حضور کا چہرہ مبارک پر جلال نظر آتا تھا) ہم لوگ جو خدا کی طرف سے آتے ہیں ہمیں ایک فراست دی جاتی ہے۔اس فراست کے ساتھ ہم جان لیتے ہیں کہ اس شخص میں رشد اور سعادت کا مادہ ہے۔ان لوگوں پر فیضان کے خاص وقت آتے ہیں ان اوقات میں جو رشد اور سعادت والے لوگ ہوتے ہیں اپنی استعداد کے مطابق اس فیضان سے حصہ حاصل کرتے رہتے ہیں۔اس طرح فیضان کے مختلف وقتوں میں حسب استعداد وہ اس قدر فیضان حاصل کر لیتے ہیں کہ جسے ولایت کہتے ہیں۔اس خدا داد فراست کے ساتھ ہم لوگ جس میں اس رشد و سعادت کو دیکھ لیتے ہیں اگر وہ شخص فیضان کے نزول کے وقت موجود نہیں ہوتا تو ہمیں کچھ رنج اور افسوس ہوتا ہے کہ فلاں شخص موجود نہ تھا۔اگر ہوتا تو وہ بھی فائدہ اٹھالیتا۔خدا نے مجھے وہ فراست دی ہے اس کے ساتھ میں آپ میں وہ رشد اور سعادت دیکھتا ہوں اس لئے میرا جی چاہتا ہے کہ آپ کم از کم آٹھ نو مہینے میرے پاس رہیں۔“ چنانچہ آپ حضور کے فیضان خاص سے خوب فیض یافتہ ہوئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل نے آپ کو ایک خاص الخاص عظیم الشان اور دائمی شرف قبول سے نوازا۔حضور نے نوے صفحات کی کتاب رقم فرمائی جس میں اردو کے اکتالیس صفحات ہیں اور عربی کے پانچ صد چونتیس نہایت فصیح و بلیغ عربی اشعار ہیں۔ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشائے خصوصی اور تقدیر خاص کارفرما تھی۔حضور نے اس کتاب میں " مخلص دوست“ ”ہمارے دوست مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ” اور ”ہمارے مخلص دوست سید محمد سرور شاہ صاحب کے پیارے الفاظ سے اور سات کتاب ہذا صفحه ۵۴