اصحاب احمد (جلد 5) — Page 562
۵۶۸ قے کی اور پھر سر اٹھالیا۔مگر میں اس کے دیکھنے کے لئے جھکا تو حضور نے فرمایا کیا ہے؟ میں نے عرض کیا حضور قے میں خون نکلا ہے۔تب حضور نے اس کی طرف دیکھا۔پھر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور دوسرے سب لوگ کمرے میں آگئے اور ڈاکٹر کو بلوایا گیا۔ڈاکٹر انگریز تھا۔وہ آیا اور قے دیکھ کر خواجہ صاحب کے ساتھ انگریزی میں باتیں کرتا رہا جس کا مطلب یہ تھا کہ اس بڑھاپے کی عمر میں اس طرح خون کی قے آنا خطرناک ہے۔پھر اس نے کہا کہ یہ آرام کیوں نہیں کرتے ؟ خواجہ صاحب نے کہا آرام کس طرح کریں۔مجسٹریٹ صاحب قریب قریب کی پیشیاں ڈال کر تنگ کرتے ہیں۔حالانکہ معمولی مقدمہ ہے۔جو یونہی طے ہو سکتا ہے۔اس نے کہا اس وقت آرام ضروری ہے۔میں سرٹیفکیٹ لکھ دیتا ہوں۔کتنے عرصہ کے لئے سرٹیفکیٹ چاہئے ؟ پھر خود ہی کہنے لگا۔میرے خیال میں دو مہینے آرام کرنا چاہئے۔خواجہ صاحب نے کہا کہ فی الحال ایک مہینہ کافی ہو گا۔اس نے فوراً ایک مہینہ کے لئے سرٹیفکیٹ لکھ دیا اور لکھا کہ اس عرصہ میں میں ان کو کچہری میں پیش ہونے کے قابل نہیں سمجھتا۔اس کے بعد حضرت صاحب نے واپسی کا حکم دیا۔مگر ہم سب ڈرتے تھے کہ اب کہیں کوئی نیا مقدمہ نہ شروع ہو جاوے۔کیونکہ دوسرے دن پیشی تھی اور حضور گورداسپور آکر بغیر عدالت کی اجازت کے واپس جارہے تھے۔مگر حضرت صاحب کے چہرہ پر بالکل اطمینان تھا۔چنانچہ ہم سب قادیان چلے آئے۔بعد میں ہم نے سنا کہ مجسٹریٹ نے سرٹیفکیٹ پر بڑی جرح کی اور بہت تلملایا۔اور ڈاکٹر کو شہادت کے لئے بلایا۔مگر اس انگریز ڈاکٹر نے کہا کہ میرا سرٹیفکیٹ بالکل درست ہے اور میں اپنے فن کا ماہر ہوں۔اس پر میرے فن کی رو سے کوئی اعتراض نہیں کر سکتا اور میرا سرٹیفکیٹ تمام اعلیٰ عدالتوں تک چلتا ہے۔مجسٹریٹ بڑ بڑا تا رہا مگر کچھ پیش نہ گئی۔پھر اسی وقفہ میں اس کا گورداسپور سے تبادلہ ہو گیا۔اور نیز کسی ظاہر انہ معلوم وجہ سے اس کا تنزل بھی ہو گیا۔یعنی وہ ای۔اے سی سے منصف کر دیا گیا۔مؤلف سیرۃ المہدی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اس کے آخر میں رقم فرماتے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ غالباً اس مجسٹریٹ کا نام چند ولال تھا۔اور وہ تاریخ جس پر اس موقع پر حضرت صاحب کو پیش ہونا تھا ا لیا 4 افروری ۱۹۰۴ تھی۔“ ( حصہ اول۔روایت ۱۰۴) بوجه درخواست انتقال مقدمہ کا رروائی ۱۴ فروری تک ملتوی ہوئی (الحکم ۰۴-۲-۰اصفه ۳ ک۲) ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے درخواست انتقال ۱۲ فروری کو نا منظور کر دی۔جس پر انتقال کی درخواست چیف کورٹ میں دی گئی مزید مرقوم ہے۔