اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 539 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 539

۵۴۵ پس اللہ اکبر سے نماز شروع ہوتی ہے اور اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله پر ختم ہو جاتی ہے یہ وہ نماز ہے جو کہ حضرت مسیح موعود اور ان کے اہل علم اور مخلص مہاجر اور رات دن ساتھ رہنے والے اصحاب پڑھتے ہیں۔جیسا میں نے بیان کیا ہے کہ ہاتھ باندھنے میں اختلاف ہے اور حضرت مسیح موعود اور ان کے مذکورہ بالا خدام فلاں طرز پر باندھتے ہیں۔اسی طرح یہ بھی جاننا چاہئے کہ رفع یدین میں بھی اختلاف ہے۔(یعنی رکوع کو جاتے ہوئے اور اٹھنے کے بعد نیچے جاتے ہوئے اور دوسری رکعت کے بعد بیٹھ کر پھر اٹھتے ہوئے تکبیر کہتے ہوئے کانوں تک ہاتھوں کو اس طرح اٹھانا جیسا کہ پہلی تکبیر کے وقت اٹھاتے ہیں ) اور اختلاف یہ ہے کہ بعض ان مقاموں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں اور بعض نہیں اٹھاتے اور حضرت مسیح موعود اور ان کے مذکورہ بالا خدام ان مقاموں پر رفع یدین نہیں کرتے۔ہاں اگر کوئی ان کے سامنے کرے تو اس پر اعتراض بھی نہیں کرتے۔امام ہمام کے ساتھ نماز پڑھنے کی حالت میں ایک اور مسئلہ میں بھی بہت کچھ نزاع ہے اور وہ ہے بلند آواز سے آمین کہنے کا لیکن حضرت مسیح موعود کا عمل درآمد ( جو کہ ترجیح اور ثبوت کے لئے حجت قاطعہ ہے۔اور حجت قاطعہ بھی ایسی کہ جس پر ہر ایک عقل مند مومن حلف کھا سکتا ہے کہ خدائے علیم کو یہ پسند ہے ) یہی ہے کہ آپ بلند آواز سے آمین نہیں کہتے اور نہ کسی کہنے والے پر کوئی اعتراض کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کو سخت تاکید فرماتے ہیں کہ وہ کسی غیر احمدی کے پیچھے صلوٰۃ ادا نہ کریں۔۔۔نماز کے مسائل تو بہت سے ہیں لیکن میں نے ان کا ذکر یہاں پر مناسب خیال کیا ہے کہ جو اکثر لوگ دریافت کیا کرتے ہیں یا ان میں عموماً تساہل کیا جاتا ہے یا ان میں اختلاف ہے۔چنانچہ آگے بھی کچھ متفرق طور پر ایسے مسائل کا ذکر کرتا ہوں۔نماز میں بعض اوقات انسان کو یاد نہیں رہتا کہ کس قدر رکھتیں میں نے پڑھی ہیں تو ایسی صورت میں اول سوچنا چاہئے کہ اگر کسی طرف زیادہ گمان ہو گیا تو وہ کرلے ورنہ کم رکعتیں قرار دے کر باقی اور پڑھ لے اور آخر میں سجدہ سہو کر لے۔اسی طرح نماز میں جب کوئی بھول ہو جائے مثلا دورکعتوں کے بعد بیٹھنا بھول جائے تو اس صورت میں نماز ختم کر کے سجدہ سہو کر لے۔اور اگر سجدہ بھول جائے تو پھر حکم ہے کہ نماز ختم کر کے یہ سجدہ بھی کر لے اور اس کے بعد سجدہ سہو بھی کر لے۔سجدہ میں سہو یوں ہوتا ہے کہ آخری التحیات ختم کر کے سلام پھیر کر یا سلام سے پہلے اللہ اکبر کہ کر نماز کے دوسجدوں کی مانند دو سجدے کر لے اور پھر سلام دے۔عام طور پر حنفی لوگ ایسا کرتے ہیں کہ اگر نماز میں امام سے کوئی بھول ہوگئی اور نماز ختم کر کے کوئی بات ہوگئی تو پھر نئے سرے نماز پڑھتے ہیں اور باتوں کے بعد سجدہ سہو کافی نہیں سمجھتے خواہ وہ اس سہو ہی کے متعلق ہوں لیکن یہاں پر حدیث کے موافق سہو کے متعلق بات چیت ہو کر بھی نماز کو دہراتے نہیں بلکہ سجدہ سہو کر لیتے ہیں۔