اصحاب احمد (جلد 5) — Page 515
۵۲۰ اور میں دہراتا جاؤں گا۔چنانچہ میں بیعت کے الفاظ کہتا گیا اور حضرت صاحب دہرا کر بیعت کرنے والوں سے بیعت لیتے رہے۔کبھی غیر مبایعین کے خلافت ثانیہ کی بیعت سے انحراف کے اسباب اور وسوسہ پڑ جانے کے موجبات کا ذکر فرماتے کبھی حضرت خلیفہ اُمسیح الاول رضی اللہ عنہ کے آپ سے تعلقات محبت وقرابت اور آپ کی نیابت میں درس قرآن بھی دیتے رہنے اور مسائل کا جواب لکھنے کا تذکرہ فرماتے کبھی دیو بند کا ذکر کبھی مباحثہ رامپور کے واقعات کبھی کوٹھ والے پیر صاحب کے حالات کبھی مباحثہ مد کے حالات کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آپ سے محبت اور قدردانی کا شیریں تذکرہ کبھی وہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتا ہے۔‘والا واقعہ جو لالہ چند ولال مجسٹریٹ کے تعلق میں سیرۃ المہدی حصہ اول مؤلفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب میں آپ کے ہی الفاظ میں درج ہے۔(روایت ۱۰۴) بیان فرماتے۔کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ ماموریت اور پھر سنت انبیاء کے مطابق ماموریت کی تشریح و تفصیل مجدد، محدث مثیل مسیح مسیح موعود یا مہدی معهود، کرشن اوتار، محمد مهدی ،ظل و بروزی و محمدی نبوت وغیرہ کا نہایت شرح وبط سے ذکر فرماتے۔کبھی پنجگانہ نمازوں کی باقاعدہ ادائیگی کے متعلق ہمیں اس طرح ترغیب دلاتے کہ نماز سے زیادہ کوئی آسان عبادت نہیں۔وضو ہاتھ منہ پاؤں وغیرہ ہی دھونے کا نام ہے اور یہ کون سا مشکل کام ہے؟ اگر پانی میسر نہ ہو تو تیم کیا جاسکتا ہے۔اگر کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکیں تو بیٹھ کر پڑھی جاسکتی ہے۔اگر زیادہ بیمار ہو اور بیٹھ نہ سکتا ہو تو لیٹے لیٹے ہی پڑھی جاسکتی ہے۔اور بوقت ضرورت نمازیں جمع بھی کی جاسکتی ہیں اور خوف وخطر کے وقت چلتے چلتے بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔اور تہجد کے متعلق بڑے مشفقانہ انداز میں فرماتے کہ بڑی بابرکت ہے کم از کم دو رکعتیں ہی پڑھ لی جائیں۔صبح کی نماز سے پہلے استغفار کا اچھا موقع ہوتا ہے۔اگر تہجد نہ پڑھی جا سکے تو کم از کم کچھ استغفار ہی نماز فجر سے پہلے کر لیا جائے۔کبھی فرماتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس قدر دلائل وفات مسیح پرہل سکتے تھے سب جمع کر دئے ہیں اور ہر لحاظ سے وفات مسیح کو ثابت کر دکھلایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد صرف ایک بات ہی نئی ملی ہے اور وہ خداوند کریم کے فضل سے مجھے ملی ہے اور وہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا وہ خطبہ ہے جس میں انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا۔لَقَدْ قَبِضَ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِى عُرِجَ فِيْهَا بِرُوحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۳۷ کہ جس رات حضرت عیسی ابن مریم کی روح اٹھائی گئی۔اسی رات آپ کی یعنی حضرت علی کی روح قبض کی گئی ( طبقات ابن سعد ) کبھی مناظرات میں ہماری راہنمائی کرنے کے لئے فرماتے۔”میاں اصل مضمون کو ہاتھ سے نہیں جانے