اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 509 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 509

۵۱۴ غلطیوں کی طرف توجہ دلاتے تا آپ کے شاگرد جو کسی دن عالم کا خطاب پائیں گے قرآن شریف کی صحیح تلاوت بھی کرسکیں۔پھر کبھی فرماتے تھے۔”میاں اگر " پچریں (حضرت مولانا یہ لفظ استعمال فرمایا کرتے تھے ) نہ لگائی جائیں تو قرآن شریف پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔اور اپنے شاگردوں کو مخالفین اسلام اور مخالفین احمدیت علماء کی بعض ” پچروں کی مثالیں بھی دے کر سمجھایا کرتے تھے۔مثلاً قصہ آدم و ملائکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف فرشتوں سے مشورہ کرنے کی پیچر لگانا۔اور شُبَهَ لَهُمُ میں کسی غیر مذکور شخص کی طرف ضمیر کو پھیر نا حالانکہ اِضْمَارِ قَبْلَ الذِكر سب کے نزدیک بالاتفاق ناجائز ہے۔وغیرہ الغرض آپ نہ صرف منطق و فلسفہ کے ہی عالم تھے بلکہ قرآن شریف کے بھی متبحر عالم تھے اور اسی لئے تفسیر القرآن سے بھی آپ کو حصہ وافر ملا تھا۔اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقدر کیا کہ ہم آپ سے نہ صرف خشک علم منطق و فلسفہ ہی کی تعلیم پائیں۔بلکہ دنیا میں حقیقی علم قرآن شریف سے بھی حصہ وافر پائیں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ ☆ رَبِّ الْعَالَمِينَ * صرف و نحو، علم حدیث اور علم فقہ ( جو در حقیقت علم قرآن اور علم حدیث اور بوقت ضرورت استعمال عقل (استنباط ) کا ہی دوسرا نام ہے ) پر بھی آپ کو ایسا کامل عبور تھا کہ سلسلہ احمدیہ کے سب مخالف علماء بھی ان علوم میں آپ کے تبحر کے قائل تھے۔جامعہ احمدیہ میں آپ کو جو فارغ وقت ملتا تھا وہ بھی آپ قرآن مجید پر غور کرنے یا حفظ کرنے میں ہی صرف فرماتے تھے ہاتھ میں عموماً ایک چھوٹا سا ( مصر میں طبع شدہ) قرآن مجید ہوتا۔جس کی آپ نے بہت اچھی جلد کروائی ہوئی تھی۔اور آپ چہل قدمی کرتے ہوئے اس میں تدبر کر رہے ہوتے۔بہشتی مقبرہ کو روزانہ تشریف لے جاتے اور آتے جاتے بھی راستہ میں قرآن مجید پر ہی ( جو عموماً آپ کے ہاتھ میں ہوتا ) تذبر ہورہا ہوتا۔چونکہ آپ جامعہ احمدیہ کے پرنسپل تھے۔اس لئے آپ کو نہ صرف جامعہ احمدیہ کے سب اساتذہ کرام کے ہی ہر طرح اطمینان و ترقی کا خیال ہوتا بلکہ اپنے شاگردوں کی بھی ترقی کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے۔اور مجھے امید نہیں کہ آپ کے کسی شاگرد یاما تحت کارکن نے آپ سے کوئی سفارش چاہی ہو اور آپ نے کرنے سے حتی الوسع ۱۹۳۴ء کے سالانہ امتحان میں میں دینیات کے مضمون میں اول آیا۔اور ناظر تعلیم و تربیت حضرت میرزا بشیر احمد صاحب کے دستخط سے نظارت کی طرف سے مجھے بطور انعام کتاب چشمہ معرفت ملی جواب تک میرے پاس بطور تبرک محفوظ ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( محمد شریف )