اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 507 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 507

۵۱۲ عَنَّا اَحْسَن الجَزَاء كلاس سے غیر حاضر نہ ہونا اور نہایت توجہ اور جاں فشانی سے پڑھانا بھی آپ کا طرہ امتیاز تھا ( جس کی دوسری زندہ مثال ہمارے بزرگ استاد حضرت مولوی ارجمند خان صاحب فاضل بھی ہیں ) جب ہم ۱۹۳۱ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کر کے مبلغین کلاس میں داخل ہوئے تو اس وقت بھی ہماری کلاس سب سے بڑی مبلغین کلاس تھی یعنی تیرہ چودہ نو جوانوں پر مشتمل تھی۔ہم میں سے چند ایک مستحق طلباء کوصدرا انجمن احمد یہ قادیان کی طرف سے اس وقت پورا وظیفہ ( یعنی بارہ روپیہ ماہوار) اور چند ایک کو نصف وظیفہ ملتا تھا اور بعض کو اپنے خرچ پر اس شرط پر مبلغین کلاس میں داخل ہونے اور تعلیم حاصل کرنے کی پر اجازت دی گئی تھی کہ آخری فیصلہ یا حقیقی امتحان مبلغین کلاس کا آخری امتحان ہوگا۔جو نظارت تعلیم و تربیت خود لے گی۔اس آخری امتحان میں جو طالب علم کا میاب اور قابل ترین ثابت ہوں گے ان میں سے حسب قاعدہ مقررہ تعداد یعنی تین کو صدرانجمن احمد یہ بطور با تنخواہ مبلغین رکھ لے گی۔باقی مبلغین کلاس پاس علما ء اپنے مستقبل کے متعلق خود مختار ہوں گے۔ہماری مبلغین کلاس میں آپ کا مضمون تفسیر قرآن شریف اور اس سے متعلقہ مضامین تھے جن کا نام دینیات (یا علمی اصطلاح میں الہیات) رکھا جاسکتا ہے۔مثلاً جمع قرآن ، ترتیب قرآن ، اعجاز قرآن ، فضائل قرآن، ناسخ و منسوخ ، قرآن مجید کی آیات پر مخالفین اسلام کے اعتراضات کے جوابات ،اصول تفسیر القرآن اور تین پرانی تفاسیر ( کبیر امام رازی، در منثور جلال الدین السیوطی اور کشاف زمخشری) کے سوسو دو دوسوصفحہ کا مطالعہ وغیرہ۔آپ ہمیں دو سال تک یہ مضامین پڑھاتے رہے۔قرآن مجید خود کلمات اللہ ہے اور کلمات اللہ کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔خواہ سارے جہان کے درخت قلمیں بن جائیں اور کائنات عالم کا سارا پانی اور اس کے ساتھ اس جیسے سات اور پانی (سمندر اور اس کے توابع) سیاہی بن جائیں ! اور ایک ایسی کتاب ہے جس کی بے شمار تفسیر میں اس وقت تک لکھی جاچکی ہیں۔علاوہ ازیں آپ خود قرآن مجید کے ایک ایسے محقق تھے کہ ایک ایک حرف اور آیت پر برسوں غور کیا ہوا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی صحبت بھی پائی ہوئی تھی۔اور وہ مشہور پانچ آیتیں بھی جن کے متعلق حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب مجد دمحدث دہلوی نے اپنے رسالہ الفَوْزُ الْكَبِیرُ میں یہ صراحت سے لکھا ہے کہ یہ منسوخ ہیں۔وہ بھی آپ نے ہمیں بڑی تفصیل سے غیر منسوخ ثابت کر کے دکھلائیں۔اور جن اصحاب کو خوش بختی سے مسجد اقصیٰ قادیان دار الامان میں آپ کے درس قرآن شریف کو کبھی سنے کا موقع ملا ہو گا۔وہ خوب جانتے ہیں کہ مقررہ وقت ختم ہو جایا کرتا تھا لیکن آپ کی تفسیر کا ابھی تھوڑا سا حصہ بھی ختم نہیں ہوا کرتا تھا۔پھر دو سال میں اور روزانہ دو گھنٹوں یعنی چالیس