اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 485 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 485

۴۹۰ کے ساتھ محترمہ خالہ صاحبہ آپ کو تیار کر کے دیتی تھیں۔اور آپ بالعموم عصر کے بعد اس کا استعمال کرتے تھے۔آپ کو دیکھ کر یہ یقین ہوتا تھا کہ آپ اپنے ماحول سے یکسر بے تعلق ہیں اور ہر وقت کسی سوچ میں ہیں بعض اوقات بچے آپ کے کمرے میں آتے تھے کھیلتے تھے اور چلے بھی جاتے تھے لیکن آپ کو کچھ علم نہ ہوتا تھا کہ کون آیا ہے اور کون گیا ہے۔آپ جب بازار میں سود اوغیرہ خریدنے کے لئے جاتے تو آپ کی طبیعت سے واقف ہونے کے باعث خاله صاحبه عزیز کمال یوسف صاحب کو یا اپنے بڑے بیٹے سید ناصر احمد صاحب کے لڑکے کو آپ کے پیچھے بھیج دیتی تھیں اور ان بچوں کو ہدایت کر دیتی تھیں کہ جب آپ سودا خرید لیں تو دھیان رکھنا کہیں آپ بٹوا جیب میں ڈالنے کی بجائے رستے میں ہی گرا نہ دیں یا دوکان پر ہی نہ چھوڑ آئیں اور محتر مہ خالہ صاحبہ کی یہ احتیاط بے جانہ ہوتی تھی۔کیونکہ بسا اوقات آپ ہوا جیب میں ڈالنے کی بجائے گریبان میں ڈال دیتے اور وہ نیچے گر جاتا یا دوکان پر ہی چھوڑ آتے تو یہ بچے وہاں سے اٹھا کر لے آتے۔آپ نہایت متوکل مزاج تھے۔تنخواہ بہت کم تھی لیکن اس کے باوجود گھر کے اخراجات بہت زیادہ تھے۔کیونکہ سید ناصر احمد صاحب آپ کے بڑے بیٹے اور ان کے بیوی بچوں کا خرچ بھی آپ کے ذمہ تھا اور وہ برائے نام ایک دفتر میں کام کرتے تھے اور سید مبارک احمد صاحب آپ کے چھوٹے بیٹے بھی اس وقت کوئی کام نہ کرتے تھے اور ان کے مع اہل و عیال اخراجات بھی آپ کے ذمہ تھے۔بڑی لڑکی ( اہلیہ سیٹھ محمد سعید صاحب پسر حضرت سیٹھ ابوبکر یوسف جمال صاحب جو فوت ہو چکی تھیں، ان کے دونوں بچے کمال یوسف صاحب اور جمال یوسف صاحب بھی آپ کے پاس تھے اور چھوٹی لڑکی سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ کی ابھی شادی نہ ہوئی تھی۔اتنا بڑا کنبہ تھا تنخواہ قلیل تھی لیکن گھر کے اخراجات اس کے مقابلہ میں بہت زیادہ تھے مگر تو کل اس قد ر تھا کہ آپ کبھی اس وجہ سے گھبراتے نہیں تھے اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کثیر اخراجات کا انتظام ہوتا جاتا تھا اور اس معاملہ میں محترمہ خالہ صاحبہ کے حسن تدبیر کا بھی بہت حد تک دخل تھا۔کیونکہ محترمہ کا ضبط گھر میں بڑا موثر اور نگرانی بڑی کڑی ہوتی تھی۔جس کی وجہ سے گھر کا کوئی فردان کی مرضی کے خلاف نہیں چل سکتا تھا۔آپ اپنے شاگردوں کے لئے بھی دعا کرتے رہتے تھے۔مجھے فرمایا کرتے تھے کہ میں نے تمہارے لئے بہت دعا کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرمایا ہے۔جامعہ احمدیہ میں میں نے آپ سے بحرالعلوم فلسفہ کی کتاب اور سلم العلوم منطق کی کتاب پڑھی ہے۔سارے سال میں غالباً آپ نے چند صفحات بحر العلوم کے اور چند صفحات سلم العلوم کے پڑھائے ہوں گے آپ کے پڑھانے کا دستور یہ ہوتا کہ آپ ایک مسئلہ بیان فرماتے اور پھر اس کے ضمن میں ایک واقعہ بیان کرنے لگ جاتے اور پھر اس واقعہ کے ختم ہونے سے قبل ہی ضمناً کوئی