اصحاب احمد (جلد 5) — Page 484
۴۸۹ آپ کے متعلق متعارف ہیں، بیان کرنے کو تحصیل حاصل سمجھتا ہوں اور اپنے اس مضمون کو صرف ان واقعات تک محدود رکھوں گا جو میری ذاتی معلومات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب کے ساتھ میرے تعلقات کچھ اس قسم کے تھے کہ آپ کے خسر حضرت بابا جیون بٹ صاحب مرحوم امرت سر کے رہنے والے تھے۔میری والدہ صاحبہ بھی امرت سر میں ان کے قریب ہی رہتی تھیں اور ان کے ہاں اکثر آنا جانا تھا۔یہ آمد و رفت رفتہ رفتہ نہایت ہی گہرے اور قریبی تعلقات کا پیش خیمہ ہوگئی اور بابا جیون والدہ صاحبہ کو بھی اپنی بیٹی قرار دینے لگے۔اس طرح حضرت مولوی صاحب کی اہلیہ صاحبہ محترمہ جو کہ اب بھی زندہ ہیں گویا بہنیں بن گئیں اور ان کا باہمی تعلق اتنا شدید ہوگیا کہ وہ ایک دوسرے کے بغیر زندہ نہ رہ سکتی تھیں۔حضرت مولوی صاحب کی شادی کے بعد بھی والدہ صاحبہ کی آمد ورفت اہلیہ صاحبہ مولوی صاحب کے پاس اسی طرح جاری رہی۔میں حضرت مولوی صاحب کی اہلیہ صاحبہ کو خالہ کہتا اور اکثر و بیشتر آپ کے گھر آتا جاتا رہتا تھا۔حضرت مولوی صاحب میرے ساتھ نہایت محبت اور شفقت کا برتاؤر کھتے تھے۔جب میں مدرسہ احمدیہ میں پڑھتا تھا تو آپ مجھے اکثر محنت کرنے اور اساتذہ کا ادب کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔جب میری تعلیم کچھ زیادہ ہوئی تو بعض اوقات آپ مجھے کسی فتوی کے سلسلہ میں حدیث کی کتاب سے کوئی حدیث تلاش کرنے کے لئے دے دیتے تھے۔آپ بالعموم فقہ کی کتاب میں سے ردالمختار شامی کا مطالعہ کرتے تھے اور زیر نظر فتاوی کے جواب کے سلسلہ میں اس کے حوالہ جات کی تلاش کرتے تھے۔اس کے علاوہ نیل الاوطار کو بھی بہت زیر مطالعہ رکھتے تھے کیونکہ ردالمختار شامی ایک مخصوص مکتب فکر کی حامل کتاب ہے اور نیل الاوطار میں کسی خاص مکتب فکر کی تقلید کے بغیر عمومی بخشیں پائی جاتی ہیں۔اس لئے آپ ان دونوں کتابوں کو ملحوظ رکھ کر فتوی دیا کرتے تھے۔میں نے آپ کو گھر میں کبھی فارغ نہیں دیکھا۔نظر کسی قدر کمزور ہونے کے باوجود آپ ہر وقت باریک مصری ٹائپ کی کتب کا مطالعہ کرتے رہتے تھے۔گھر میں بچوں کے ساتھ بہت کم گفتگو کرتے تھے۔خالہ صاحبہ ( آپ کی اہلیہ محترمہ ) آپ کے آرام کا ہر وقت خیال رکھتی تھیں اور جب آپ گھر میں ہوتے تو کبھی ادھر اُدھر نہ جاتی تھیں نہ ان کے مطالعہ کے کمرہ میں کسی بچے وغیرہ کو جانے دیتی تھیں۔آپ چونکہ علمی مطالعہ بہت کرتے تھے اور ضعیف العمر بھی تھے۔اس لئے اپنی صحت اور دماغی قوت کو برقرار رکھنے کے لئے آپ بلا ناغہ بادام کا حریرہ استعمال کرتے تھے۔جہاں تک مجھے یاد ہے بادام الا بچی خورد پیں کر اور پھر گھی کا تڑکہ لگا کر دودھ ملا کر پیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ میرا معمول ہے اور دماغی کام کرنے والوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ اس قسم کی مقوی دماغ غذا استعمال کرتے رہیں۔یہ حریرہ نہایت پابندی