اصحاب احمد (جلد 5) — Page 467
۴۷۲ آپ کی خلافت سے قبل رسالہ تفخیذ الاذہان کے متعلق آپ مشوروں سے قابل قدر را مداد فرماتے تھے کہوں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے سفروں میں رفاقت حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی معیت کی سعادت مولوی صاحب کو متعد دسفروں میں حاصل ہوئی جن میں سے بعض کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔(۱) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد۔صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کشمیر تشریف لے گئے ہیں۔مولوی سرورشاہ صاحب کوصاحبزادگان ممدوح کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔نیکی اور بھلائی کے فرشتے ہر جگہ ان کی حفاظت اور نصرت کریں اور ان کا یہ سفر بہت بہت سی دینی خوبیوں اور بھلائیوں کا موجب ہو۔(آمین ) فرمایا۔سید حیات علی شاہ صاحب اس امر کے شدید متمنی تھے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب سفر کشمیر سے انجمن تشحی الاذہان کی طرف سے امداد کرنے والوں کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ۔در شیخ یعقوب علی صاحب ہمفتی محمد صادق صاحب اور مولوی سرور شاہ صاحب قابل شکریہ ہیں جنہوں نے رسالہ تشخیذ الاذہان کے متعلق اپنے اپنے مفید ریویو کئے اور اپنے مفید مشوروں سے انجمن کی مدد کرتے رہے۔۲۴ الحکم ۰۹-۷- ے صفحہ ۶ از میر دار الامان کی خبریں“۔و بالفاظ دیگر مورخه ۰۹-۷-۱۴ صفحه ۴ زیر دارالامان کا ہفتہ۔بدر ۰۹-۷-۱۵ ( صفحہ اک (۳) تشخیذ الا ذبان بابت اگست ستمبر ۱۹۰۹ء (سرورق صفحہ ۴۲۔سفر مراجعت کی خبریں ) والحکم جو بلی نمبر صفحہ ۶۹ ک۴) آپ بیان کرتے تھے کہ اس سفر میں میر محمد الحق صاحب بھی ساتھ تھے سفر راولپنڈی کے راستہ دو یکوں کے ذریعہ کیا تھا۔یکے والے گوڈوگرے تھے جو ظالم ہوتے ہیں لیکن ہمارے ساتھ انہوں نے بہت اچھا سلوک کیا۔ایک یکہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب اور میں اور دوسرے میں دیگر دونوں رفقاء نے سفر کیا۔سری نگر میں ملک شیر محمد صاحب نائب وزیر مال یا نائب گورنر کے ہاں قیام رہا۔ملک صاحب قادیان میں ہیڈ ماسٹر کے طور پر کام کر چکے تھے ملک صاحب نے ایک ہاؤس بوٹ کا بھی انتظام کیا پھر پہلگام گئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کو سبزہ بہت پسند آیا۔بقیہ حاشیہ - آپ نے مجھ مؤلف سے بیان کیا تھا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی زندگی میں حضرت مولوی نورالدین صاحب سے تعلیم حاصل کرتے تھے اور آ حاصل کرتے تھے اور آپ نے خود ہی مجھ سے صرف پڑھنی شروع کی لیکن یہ صرف چند سبق ہی تھے۔البتہ ایام خلافت اولی میں حضرت خلیفہ اسی اول کی