اصحاب احمد (جلد 5) — Page 432
۴۳۷ ہوا ہے۔اس طرح ۲۰ جون ۱۹۰۳ء کے متعلق حضرت مسیح موعود نے اپنے قلم مبارک سے ایک کاپی پر رقم فرمایا عمر دراز - إِنَّا النَّالَكَ الْحَدِيدَ - إِنِّي تَعَلَّقْتُ بِأَهْدَابِكُمْ - رَجُلٌ كَبِيرٌ یاد داشت۔جب یہ الہام ہوا۔انى تعلّقت باهدابكم۔رجل کبیر۔اس کے بعد قلات کے بادشاہ معطل کی طرف سے خط آیا کہ میں آپ کے دامن سے وابستہ ہو گیا۔اس کے گواہ مفتی محمد صادق ، مولوی مبارک علی ،سید سرور شاہ ، مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے مولوی عبد الکریم صاحب، مولوی حکیم نور دین صاحب، نواب محمد علی خان صاحب۔مولوی شیر علی صاحب بی اے وغیرہ اصحاب ہیں جو چالیس کے قریب ہوں گے۔‘ ۱۳ شحنہ ہند کو دعوت شحنہ ہند میرٹھ کوحضور کے ساتھ قرآن مجید کے کسی حصہ کی تغییر فصیح و بلیغ عربی میں لکھنے کے لئے جن ایک سواحباب کی طرف سے دعوت مقابلہ دی گئی تھی ان میں مولوی صاحب بھی شامل تھے۔ان احباب نے یہ اقرار کیا تھا کہ ہماری طرف سے ہمارے وکیل حضرت مسیح موعود ہوں۔اور ان کی فتح وشکست ہماری فتح و شکست ہوگی میمیرد جلسئہ ندوۃ العلماء کیلئے وفد ندوۃ العلما کا جلسہ بمقام امرتسر ۹ تا ۱۱ اکتوبر ۱۹۰۲ء منعقد ہونے والا تھا۔حافظ محمد یوسف صاحب نے یہ اشتہار دیا کہ ابو اسحاق محمد دین نے قطع الوتین نامی رسالہ لکھا ہے جس میں ایسے مدعیان کا ذب کے اسماء مع تاریخی حوالوں کے درج ہیں۔جنہوں نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم جیسے دعوی الہام کے بعد تئیس سال زندگی پائی۔مرزا صاحب (علیہ السلام) اس جلسہ میں شریک ہوں اور یہ تحریر کر دیں کہ اگر ندوہ کے منتخب علماء ان نظائر کو درست تسلیم کر لیں تو آپ جلسہ میں ہی تائب ہو جائیں گے۔حضور نے تحفتہ الندوہ نامی رسالہ تصنیف فرمایا۔جس میں آپ نے حافظ صاحب کے مسلک کی تردید کی اور یہ بھی بتایا کہ دینی مسئلہ میں میں اٹھائیسویں نمبر پر آپ کا نام ”مولوی سید سرورشاہ صاحب کشمیری مظفر آبادی“ موجود ہے (الحکم ۰۲-۲-۱۴ صفحه اک۲)