اصحاب احمد (جلد 5) — Page 425
۴۳۰ آپ کو خاندان حضرت مسیح موعود اور بالخصوص حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے بہت محبت تھی اور یہ امر کسی سے مخفی نہیں اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب آپ کا بہت خیال رکھتے تھے۔قادیان والا مکان حضرت صاحبزادہ صاحب کی توجہ سے ہی والد صاحب کو ملا تھا۔فتنہ مصری کے ایام میں موسم گرما میں والد صاحب نے ایک خطبہ جلالی رنگ میں پڑھا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ ڈلہوزی تشریف لے گئے ہوئے تھے۔خطبہ میں فرمایا کہ ہم لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر قادیان چلے آئے۔ہم نے اپنی آنکھوں سے حضرت مسیح موعود کو دیکھا اور حضرت میاں صاحب ( خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) کے بچپن اور جوانی کے زمانے دیکھے۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے کوئی ایسی بات جو سلسلہ کے وقار یا اسلام کے خلاف ہو نہیں دیکھی۔پھر آپ نے بڑے جلال سے فرمایا کہ میں اپنی مثال آپ لوگوں کے سامنے رکھتا ہوں۔میں ایک پیر خاندان کا فرد ہوں۔میں نے ان کی بیعت اس لئے کی کہ میں ان کو اپنے سے زیادہ بزرگ اور خلیفتہ اللہ یقین کرتا ہوں۔آج مصری صاحب حضور ایدہ اللہ تعالیٰ پر گھناؤ نے الزام لگا رہے ہیں۔میں ان کو یہ کہتا ہوں اور اسی مسجد اقصیٰ میں منبر پر کھڑے ہو کر اور اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ سرور شاہ نے آج تک بد کاری نہیں کی۔پھر اس کا مقتدا خلیفہ کیوں کر اس فعل بد کا مرتکب ہوسکتا ہے۔یہ سب کذاب و افترا ہے۔مصری صاحب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیئے ایک دن انہوں نے اس کے حضور حاضر ہونا ہے۔یہ الفاظ آپ نے نہایت بلند جلالی آواز سے کہے اور اس وقت آپ کا چہرہ غصہ سے سرخ تھا۔از اخویم مولوی سلیم اللہ صاحب فاضل پنشنز مدرس اوکاڑہ ضلع منٹگمری ) مجھے ۱۹۱۱ء سے ۱۹۲۷ ء تک قادیان میں قیام کا موقع ملا۔آپ کی شاگردی کا شرف بھی حاصل کیا۔آپ کو با جماعت نماز کا جس قدر احساس تھا۔وہ اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ آپ کی صاحبزادی حلیمہ بیگم نزع کی حالت میں تھیں کہ اذان ہوگئی۔آپ نے بچی کا ماتھا چوما اور سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے سپر د خدا کر کے چلے گئے بعد نماز جلدی سے اٹھ کر واپس آنے لگے تو کسی نے ایسی جلدی کی وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ نزع کی حالت میں بچی کو چھوڑ موصوف حضرت مولوی صاحب کے موضع دانہ کے ذاتی خادم میاں بگا کے بیٹے ہیں۔دوران تعلیم قادیان میں آپ ہی کے مکان میں قیام رکھتے تھے اور حضرت مولوی صاحب کی شفقت سے حصہ وافر پاتے تھے۔