اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 399 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 399

۴۰۴ سبق کا ایک گونہ تجز یہ ہوتا تھا اور وہ پورے طور پر ذہن نشین ہو جاتا تھا اور اس طرح طلباء میں خود اعتمادی اور وسعت نظر کا ملکہ پیدا ہوتا تھا۔جب میری پہلی شادی پر پندرہ سال گزر گئے اور کوئی اولاد نہ ہوئی تو آپ نے خاکسار کو نکاح ثانی کا مشورہ دیا اور ایک جگہ دعا کے ساتھ تحریک بھی فرمائی اور بعد ازاں محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب ( سابق حج ہائی کورٹ مغربی پاکستان ) کی سعی بلیغ کی برکت سے کامیابی ہوئی اور خاکسار کی خواہش پر حضرت مولانا صاحب ایک شفیق باپ کے رنگ میں میرے ساتھ پشاور تشریف لے گئے۔نکاح پڑھا اور لنڈی کوتل کی سیر بھی کی اور بعد رخصتانہ ہمراہ مراجعت فرما ہوئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوسری اہلیہ کے بطن سے خاکسار کو الیسی اولا د عطا ہوئی جو ہمارے لئے قرۃ العین ثابت ہوئی۔آپ کو ہر علم میں مہارت تامہ اور تبحر حاصل تھا۔اگر قرآن مجید اور حدیث شریف کے متعلق کوئی بات دریافت کی جاتی یا صرف و نحو یا فصاحت و بلاغت کے متعلق کوئی بحث ہوتی یا منطق و فلسفہ کا پیچیدہ مسئلہ بیان کیا جاتا تو ہر ایک فن کے متعلق آپ کی وسعت معلومات اور حسنِ مہارت کی داد دینی پڑتی۔مناظرہ مد کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عربی اشعار اور وہ دلآویز اشعار جن میں حضور نے حضرت مولانا صاحب کی تعریف و توصیف فرمائی ہے اور آپ کی وسعت علمی پر مہر تصدیق ثبت کی ہے، قیامت تک آپ کے لئے باعث صد افتخار رہیں گے۔آپ کی روحانی اولاد لائق شاگردوں کی شکل میں باقیات صالحات ہیں جن کا سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا۔اللہ تعالیٰ آپ کو اعلی علیین میں بلند درجات عطا فرمائے۔آمین۔از مکرم مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل امیر جماعت احمد یہ وناظر اعلی قادیان میں ۱۹۰۴ء یا ۱۹۰۵ء میں قادیان میں تعلیم پانے کے لئے آیا تھا۔اس وقت حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب مدرسہ تعلیم الاسلام میں مدرس تھے اور پندرہ روپے یا اس کے قریب مشاہرہ پاتے تھے۔ان دنوں قرآن مجید۔حدیث اور عربی کے مضامین چوتھی جماعت سے شروع ہو جاتے تھے۔پرائمری یعنی پانچویں درجہ تک مولوی عبد اللہ صاحب کشمیری یہ مضامین پڑھاتے تھے اور اس سے اوپر کی جماعتوں کو حضرت مولوی صاحب۔انتظامی طور پر مڈل تک کے ہیڈ ماسٹر حضرت مفتی محمد صادق صاحب تھے اور اعلیٰ جماعتوں کے حضرت مولوی شیر علی صاحب۔اس وقت بورڈنگ میں حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی سپر نٹنڈنٹ تھے لیکن بعد میں حضرت