اصحاب احمد (جلد 5) — Page 395
Y مجھے مشورہ دیں کہ اب میں کیا کروں۔اور حصول علم کی مرغوب خواہش کو کس طرح جاری رکھوں ورنہ پھر اپنے وطن ( جو سرحد پار کے آزاد قبائل میں سے مہمند کا آزاد قبیلہ ہے ) بادلِ نا خواستہ واپس چلا جاؤں۔مکرم صاحبزادہ صاحب نے جو میرے استاد بھی ہیں تسلی دی کہ آپ صبر کریں اور دعا کریں۔اللہ تعالیٰ اس پریشانی کو دور فرمائے گا کیونکہ وہ صادقوں کو ضائع نہیں کرتا۔تین دن بعد حضرت مولانا صاحب کا ایک مکتوب صاحبزادہ صاحب کے نام قادیان سے آیا کہ افسر نگران اعلی مدرسہ احمدیہ ) حضرت میاں صاحب ( یعنی حضرت مرزا محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ) نے فرمایا ہے کہ اپنے بھائی (یعنی خاکسار ) کو قادیان واپس بھیج دیں ہم ان کی تعلیم اور اخراجات کا انتظام کریں گے۔صاحبزادہ صاحب موصوف نے خاکسار کو مبارک باد دی اور فرمایا کہ کارساز خدا تعالیٰ نے آپ کی پریشانی اور فکر مندی کو اپنے فضل وکرم سے دور فرما دیا ہے اور اب دار الامان میں پاک زندگی گزارنے کا موقع عطا فرمایا ہے۔چنانچہ نہایت تسلی کے عالم میں ایک ماہ بعد واپس قادیان آیا اور مدرسہ احمدیہ کی جماعت سوم میں داخلہ لیا۔اس وقت خاکسار کی عمر قریباً اٹھارہ سال کی تھی۔اگر سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی سعادت جناب صاحبزادہ صاحب کے طفیل مجھے نصیب ہوئی تھی تو مدرسہ احمدیہ میں داخل ہونے کی برکت حضرت مولانا صاحب کی باپ جیسی مشفقانہ اور ہمدردانہ توجہ سے حاصل ہوئی۔حضرت مولانا صاحب کی شفقت اور اعلیٰ تربیت کے طفیل اور حضرت خلیفتہ المسیح اول اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی صحبتوں اور ذرہ نوازیوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اخلاقی اصلاح اور علمی ترقی کی توفیق عطا فرمائی۔جب میں ۱۹۱۶ء میں مدرسہ احمدیہ کی جماعت ہفتم سے فارغ ہوا ( اور یہ سعادت اس سال اپنی جماعت میں صرف خاکسار کو نصیب ہوئی تھی) اس وقت مدرسہ احمدیہ کے ساتھ مولوی فاضل کلاس کا الحاق نہیں ہوا تھا اس لئے مولوی فاضل پاس کرنے کے لئے مجبور لا ہور اور مینٹل کالج میں داخل ہو گیا۔چونکہ اس وقت ایک دو طالب علم سابق صوبہ سرحد کی احمد یہ بلڈنکس میں رہتے تھے جو جناب مولوی محمدعلی صاحب کے معتقد تھے اور وہ طالب علم میرے واقف تھے ان کی تحریک پر میں نے احمد یہ بلڈنگس میں مولوی فاضل کے امتحان تک رہائش اختیار کی اور اور مینٹل کالج کی طرف سے مجھ کو کچھ وظیفہ بھی ملتا تھا جس سے میرا گزارہ ہوتا تھا۔اس وقت اگر چہ میں الگ تھلگ رہتا تھا اور امتحان کی تیاری کی وجہ سے وہاں بڑے لوگوں سے ملنے کا موقع نہیں ملتا تھا لیکن بالآخر انہوں نے مراسم پیدا کرنے کی کوشش کی۔مولوی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب میری دعوتیں بھی کرتے اور میری درخواست دینے کے بغیر از خود معقول وظیفہ انجمن اشاعتِ اسلام نے مشروط طور