اصحاب احمد (جلد 5) — Page 379
۳۸۴ کا عصا ہاتھ میں لئے بڑے ہی وقار سے گھر سے نکلتے ایک ہاتھ میں باریک ٹائپ کا مصری قرآن کھولے تلاوت کرتے یا آیات کریمہ کے معانی پر غور وفکر فرماتے جارہے ہیں۔طلبہ کو بڑی محبت اور شفقت سے پڑھاتے مگر پڑھانے کا انداز کچھ مخصوص قسم ہی کا تھا۔اس عاجز کو آپ سے منطق وفلسفہ پڑھنے کا موقع ملا۔بظاہر سبق ایسے ہی خشک مضامین کا ہوتا مگر بڑی قابلیت اور خوبی سے اس میں ایسی دلچسپی پیدا کر دیتے کہ سبق پر لمبا وقت گزر جانے کے باوجود ذرا اکتاہٹ پیدا نہ ہوتی۔دورانِ سبق میں ذاتی مشاہدات و تجربات کو زیادہ تفصیل سے بیان فرماتے اور انداز بیان ایسا کہ ہر بات کو بخوبی ذہن نشین ہو جاتی۔زمانہ طالب علمی میں اپنی نا تجربہ کاری کے باعث ہم لوگ آپ کی طول طویل تشریحات کو بعض اوقات سبق سے غیر متعلق خیال کرتے مگر اب عملی زندگی میں قدم رکھنے پر معلوم ہوا کہ یہ سب باتیں بڑی ہی کارآمد اور مفید تھیں جن کا نہایت گہرا تعلق نہ صرف ہمارے نصاب میں داخل مسائل یا کتب کے ساتھ تھا بلکہ ہماری آئندہ کی عملی زندگی میں انہی باتوں نے کام آنا تھا۔فجزاه الله احسن الجزاء۔با وجود علم وفضل میں بہت بلند مقام رکھنے کے اس زمانہ کے دیگر نام نہاد علماء کے برعکس آپ کی طبیعت میں سادگی اور تواضع اس قدر تھا کہ اگر کسی وقت چھوٹے بچے نے بھی آپ سے بات کرنی چاہی تو بلا جھجک آپ سے ہم کلام ہوسکتا۔آپ بڑی محبت سے اس کی بات سنتے اور تسلی بخش طریق پر اس کے سوال کا جواب دیتے اس عاجز کو خود اپنے بچپن کا ایک ایسا واقعہ کبھی نہیں بھولتا۔جبکہ اس عاجز کے کسی قریبی رشتہ دار کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔خط کے ذریعہ ایسی اطلاع ملنے پر میں نے حضرت مولوی صاحب سے نو مولود کا نام تجویز کرانے کا ارادہ کیا آپ شاید مسجد اقصیٰ میں درس دینے کے لئے جارہے تھے یا واپس تشریف لا رہے تھے۔میں آگے بڑھا اس عاجز کو اپنی طرف آتا دیکھتے ہی رک گئے بڑی محبت سے التفات سے فرمایا اور میری درخواست پر نومولود کا نام تجویز فرما کر اس کے حق میں دعا فرمائی۔کسی مسلمان کی وفات پر نماز جنازہ کی ادائیگی جہاں میت اور اس کے لواحقین کے لئے بہترین دعا ہے۔وہاں اسلام نے بڑے ہی پر حکمت طریق پر اہل محلہ کی طرف سے اس موقع کو لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی اور تعزیت کا ذریعہ بنا دیا ہے حضرت مولانا صاحب میں یہ وصف بطور خاص اور نمایاں رنگ میں پایا جاتا تھا۔آپ کسی ایسے موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے حتی کہ بار ہا نوزائیدہ بچہ کے جنازہ کی اطلاع ملنے پر بھی با وجود اپنی شدید مصروفیات کے وقت پر پہنچ جاتے اور نماز جنازہ پڑھانے کے ساتھ عملی رنگ میں میت کے لواحقین سے دلی تعزیت کا نمونہ پیش فرماتے۔باوجودیکہ سلسلہ کے مختلف ذمہ داری کے کاموں کے باعث آپ ہمیشہ ہی معمور الاوقات رہے