اصحاب احمد (جلد 5) — Page 17
۱۷ منگوائے اور نماز سے فارغ ہونے پر دونوں کے آگے رکھ دیئے۔آپ نے سمجھا کہ یونہی صلح کی ہے اس لئے اسے کہا کہ آپ کھائیں۔اس نے کہا کہ یہ آپ کے لئے منگوایا ہے۔چونکہ آپ نے رات کو گاڑی میں سفر کیا ہے اور راولپنڈی اور پشاور کے درمیان کوئی ایسا اسٹیشن نہیں جس پر کھانا مل سکے۔اس لئے یہ سمجھ کر کہ آپ رات کو بھوکے رہے ہونگے آپ کے لئے کھانا منگوایا ہے۔حضرت مولوی صاحب کے دل میں اللہ تعالیٰ کے لئے جذبات تشکر اتنے موجزن ہوئے کہ آپ چاہتے تھے کہ چیخ مار کر رو پڑیں۔اس پشاور میں جس کے متعلق لوگ کہتے تھے کہ جب تک آپ نمازیوں کے لئے ڈھیلے تو ڑ کر رکھنے، کنوئیں سے پانی نکال کر سبیل بھرنے ، لوٹوں میں پانی ڈال کر نمازیوں کو دینے اور مسجد میں جھاڑو دینے اور صفیں بچھانے کا کام نہیں کریں گے۔آپ کو کھانا نہیں ملے گا۔کجا یہ کہ اسی پشاور میں ایک طالب علم کو جو خود مدد کا محتاج ہوتا ہے اور اس سے قطعا کوئی سابقہ معرفت نہیں تحریک ہوتی ہے کہ آپ کے لئے کھانا منگوا لے اور کھانا بھی بالکل تازہ تھا حالانکہ ایسے وقت میں تازہ کھانا دستیاب نہیں ہوتا۔آپ ہاتھ دھونے کے بہانہ سے کنوئیں کی طرف طلباء سے اوجھل ہوئے اور یہ کہتے ہوئے کہ میرے خدا! تیرے ہوتے ہوئے مجھے ان سفارشی خطوں کی ضرورت نہیں۔ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے کنوئیں میں پھینک دیا اور واپس آ کر کھانا کھایا۔دوسرا کرشمه مولوی رحمت اللہ صاحب سے ملے۔انہوں نے پڑھانے کا وعدہ کیا بشرطیکہ آپ کھانے کا انتظام کر لیں۔آپ نے ان سے بہتیرا کہا کہ آپ پڑھائیں اور کھانے کی فکر نہ کر میں لیکن وہ کہتے تھے کہ میں نے کوئی طالب علم نہیں دیکھا جو اپنے کھانے کا خود انتظام کرے لیکن حضرت مولوی صاحب کو یقین تھا کہ کھانے کا انتظام خود اللہ تعالیٰ کرے گا۔آخر جب با وجود اصرار کے انہوں نے نہ پڑھایا تو تین دن کے بعد آپ نے تلاش کی کہ کوئی اور استاد مل جائے۔معلوم ہوا کہ میر عبداللہ نحوی یکہ توت دروازہ کے قریب محلہ کالے کے کنوئیں کی مسجدوں اٹک اور خیبر آباد کے پاس رہتے ہیں۔یہ دونوں مسجد میں آمنے سامنے ہیں۔وہ نحو کے بڑے ماہر ہیں۔ان کے پاس جاتے ہوئے جب آپ بازار قصہ خوانی کے آخر پر کالے کے کنوئیں کی طرف مڑے تو آپ کو ایک سفید ریش آدمی نے السلام علیکم کہا اور مصافحہ کر کے پوچھا کہ آپ طالب علم ہیں؟ آپ کے اثبات میں جواب دینے پر اس نے پوچھا آپ سید ہیں؟ آپ نے کہا ہاں۔اس پر وہ آپ کو پاس کی ایک کباب کی دوکان پر لے گیا اور اسے کہا کہ اس لڑکے کو دونوں وقت میرے حساب میں دو آدمی کا کھانا اور کباب وغیرہ دے دیا کرو۔پھر اس نے پوچھا کہ تم کس مولوی سے پڑھتے ہو؟ آپ نے کہا کہ میں ابھی آیا ہوں اور مولوی عبداللہ