اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 375 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 375

۳۸۰ سیلک لیکچر پر میری حوصلہ افزائی پ خاکسار درجہ اولیٰ میں تعلیم حاصل کر رہا تھا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی اس خاص تحریک کے ماتحت کہ جماعت احمد یہ ہر سال سیرۃ النبی کے جلسے سارے ملک میں منعقد کرے۔قادیان میں بھی آپ کی زیر صدارت جلسہ منعقد کیا گیا۔حاضرین کی تعداد ہزاروں کی تھی۔میری بھی بیس منٹ کی تقریر ہوئی۔یہ میری پہلی پبلک تقریر تھی اور جلسہ ختم ہوتے ہی میں گھر چلا گیا۔اس خیال سے کہ معلوم نہیں تقریرکیسی ہوئی لیکن تھوڑی دیر کے بعد حضرت مولوی صاحب نے مجھے بلوا بھیجا۔جب میں پہنچا تو مجھے مبارک باد دی اور کہا کہ تم نے آج اچھی تقریر کی۔اگر تم اس طرف توجہ کرو گے تو اچھے مقرر بن جاؤ گے میں نے دعا کے لئے عرض کیا۔آپ کی اس حوصلہ افزائی کا یہ نتیجہ ہوا کہ میں نے پبلک تقاریر میں حصہ لینا شروع کیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اسلام واحمدیت کی خدمت کے کافی مواقع عطا فرمائے۔قرآن مجید کے بہترین مفسر ۱۹۳۸ء میں خاکسار درجہ ثالثہ میں تعلیم حاصل کر رہا تھا کہ اس وقت صدرانجمن احمدیہ کے اداروں کی عام دیکھ بھال کے لئے ایک کمیشن حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہوا۔اس کے ایک رکن حضرت میر محمد اسمعیل صاحب بھی تھے۔یہ کمیشن بغرض معائنہ جامعہ احمدیہ میں بھی آیا۔حضرت مولوی صاحب درجہ ثالثہ اور درجہ رابعہ کو قرآن مجید کی تفسیر پڑھاتے تھے۔نصاب کے لحاظ سے دو سالوں میں پورے قرآن مجید کی تفسیر ختم کرنا ہوتی تھی۔آپ اس رنگ میں تفسیر بیان فرماتے تھے کہ ایک آیت کی تفسیر میں دسوں دیگر آیات کی تفسیر بیان کر دیتے تھے لیکن با قاعدہ ترتیب کے ساتھ قرآن مجید ختم نہیں کرواتے تھے۔اس لئے درجہ ثالثہ اور درجہ رابعہ کے طلباء نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم کمیشن کے سامنے یہ معاملہ رکھیں گے کہ حضرت مولوی صاحب سارا قرآن شریف دوسالوں میں ختم نہیں کرواتے۔چنانچہ کمیشن نے جب طلباء کو کچھ کہنے کا موقع دیا تو ایک طالب علم نے مندرجہ بالا معاملہ رکھا۔کمیشن نے طلباء کے سامنے ہی مولوی صاحب سے اس کی بابت دریافت کیا۔آپ نے جواب دیا کہ دراصل سارے قرآن مجید کی تفسیر تو دو سال کیا بیس سال میں بھی ختم نہیں ہوسکتی۔اس لئے میں اصولی طور پر قرآن مجید کے بعض اہم نکتے بیان کر دیتا ہوں اگر چہ میں ترتیب کے ساتھ قرآن مجید کو ختم نہیں کرتا۔لیکن اصولی لحاظ سے قرآن مجید کے جملہ اہم مقامات کی تفسیر بیان کر دیتا ہوں اور یہ طلباء خود اس کی شہادت دیں گے۔چنانچہ سب طلباء نے اس کی تصدیق کی۔