اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 358 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 358

۳۶۳ تو میں پانچ سال کا تھا۔میرے چا پیر محمد صاحب لاڑ جی میری کفالت کرتے رہے بعد ازاں حضرت سیٹھ شیخ حسن صاحب احمدی یادگیری نے اپنی طرف سے وظیفہ مقرر کر کے قادیان بھجوایا۔(اس کے بعد آہستہ آہستہ ۴۹ طالب علم اور بھی وظیفہ پر تعلیم کے لئے بھجوائے ) اس کامل عرصہ تعلیم میں مجھے یہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ میرے والد اور والدہ فوت ہو چکے ہیں اور میں یتیم ہوں۔اس لئے کہ قادیان میں ہماری کفالت اور نگرانی جس محبت شفقت اور حسن سلوک سے جن خاندانوں نے کی۔انہوں نے ہمارے ساتھ بالکل ایسا ہی سلوک کیا جس طرح وہ اپنی اولاد کے ساتھ کرتے ہیں اور ہم ان خاندانوں میں بالکل اسی طرح رہے جس طرح کہ ہم ان خاندانوں کے ایک فرد ہیں۔علاوہ خاندان حضرت مسیح موعود کے افراد ذکورواناث کے جن کے ہم پر ہزاروں احسانات ہیں جن خاندانوں نے ہم پر رہتی دنیا تک یادگاری احسان کئے اور ہماری ایسی اعلیٰ درجہ کی نشو و نما کی جس کے باعث آج ہم خادم دین ہونے کو فخر محسوس کرتے ہیں ان میں خاص طور پر دو خاندان ہیں۔پہلا خاندان محترم مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ (امیر جماعت احمدیہ قادیان و ناظر اعلی ) کا ہے جو ہمارے نہ صرف شفیق استاد تھے بلکہ وہ ہمارے عملاً نگران یعنی سپرٹنڈنٹ تھے۔ان کے ذاتی اور ان کی اہلیہ مرحومہ اور خاندان کے ہم پر ایسے احسانات ہیں کہ ہم ان کو تادم زیست ہرگز بھلا نہیں سکتے۔اور نہ ہماری نسلیں ان کو فراموش کر سکتی ہیں۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے۔دوسرا خاندان حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کا ہے، جس نے ہماری ہر طرح کفالت ونگرانی کی اور ہم پر احسان عظیم فرمایا۔نہ صرف ذاتی طور پر مولوی صاحب ہمارے شفیق استاد مربی اور محسن تھے بلکہ ان کی اہلیہ محترمہ اور ان کے بچے آپا حلیمہ بیگم صاحبہ مرحومہ اور آپا سلیمہ بیگم صاحبہ مرحومہ اور ان کے دوسرے بچے بھی۔وہ ہمارے ساتھ ایسا حسن سلوک کرتے تھے جس طرح وہ اپنے عزیزوں کے ساتھ کرتے تھے۔ہماری ہر ضرورت کو پورا فرماتے۔ہمارے دکھ میں ہمارے کام آتے۔ہم کو حیدر آبادی طالب علم ہونے کے باعث بورڈنگ کا کھانا کبھی ناپسند ہوتا یا بھوک لگتی تو ہم بے تکلفی سے آپ کے ہاں چلے جاتے تو گھر سے روٹی پکوا دیتے۔اور گھر میں اچھا کھانا پکتا تو بورڈ نگ سے ہمیں بلا کر کھلاتے۔ہمارے پھٹے کپڑے خود اپنے ہاتھ سے سی کر دیتے۔ہمیں سیر و تفریح کے لئے اپنے ساتھ دوسرے مکانات پر لے جاتے۔ہمیں قرآن پڑھاتے اور ہم سے ہر طرح کا اچھا سلوک کرتے۔آپ بالعموم سبز چائے استعمال فرماتے تھے۔اور گھر کی چائے طالب علموں کو بھی ملا کرتی تھی۔خصوصاً ان ایام میں جب آپ کسی وجہ سے اپنے گھر پر سبق پڑھاتے۔ہم چار پائیوں یا بنچ پر بیٹھ جاتے اور آپ درس