اصحاب احمد (جلد 5) — Page 15
۱۵ والد صاحب سے آپ کبھی کوئی خرچ طلب نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ان کو علم تھا کہ ان کے گھر سے خرچ جاتا ہے۔اس لئے انہیں کبھی بھی اس طرف توجہ نہ ہوئی کہ آپ کو خرچ دیں۔داتہ میں آپ اپنی پھوپھی کے ہاں رہتے تھے اس لئے وہاں تو کوئی امداد در کار نہ تھی لیکن اب مسجد کے ٹکڑوں پر گزارہ کرنے کے لئے مجبور تھے اور تحصیل علم کی خاطر آپ نے یہ کڑوا گھونٹ پینے پر اپنے تئیں آمادہ پایا۔بگڑا میں معلوم ہوا کہ کوئی مسجد نہیں کہ جس میں طالب علم رہتے ہوں اور بتایا گیا کہ آپ نئی مسجد میں جائیں جو خان نے بنوائی ہے شاید وہاں کوئی انتظام ہو سکے۔یہ مسجد ابھی ابھی تیار ہوئی تھی اور ابھی اچھی طرح چٹائیوں کا انتظام بھی نہیں ہوا تھا۔اس میں ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا۔اس سے آپ نے دریافت کیا کہ ہم طالب علم ہیں اس مسجد میں رہنا چاہتے ہیں۔کیا اس کی کوئی صورت ہو سکتی ہے، اس نے خوب توجہ سے آپ کے چہرہ پر نظر ڈالی اور کہا ” تم سید ہو؟ آپ کے اثبات میں جواب دینے پر اس نے کہا کہ آپ کا کھانا ہمارے ہاں ہوگا اور آپ کے ساتھی طالب علموں کے لئے محلہ سے وظیفہ حاصل کرنے کا انتظام کر دینگے۔یہ بوڑھا نور اللہ خان وہاں کے اصل خان عبداللہ خان کا چچا تھا اور عبداللہ خان پٹھانوں کے رواج کے مطابق اس علاقہ کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ایک سال سے زیادہ آپ وہاں رہے۔نور اللہ خان کا بیٹا دونوں وقت آتا اور آپ کو گھر پر لے جاتا اور معزز مہمان کی طرح آپ کی تواضع کی جاتی۔حصول علم کے لئے صبر واستقلال ان دنوں ماہ رمضان ابتدائے موسم گرما میں آتا تھا۔سب طالب علم جب دانہ سے جو کہ بہت سر د جگہ ہے عید گذار کر ہزارہ میں جو اس کی نسبت بہت گرم ہے واپس آئے تو گرمی بھی نا قابل برداشت معلوم ہوئی اور ابھی گرمی نے زیادہ ہونا تھا۔حضرت مولوی صاحب نے اپنا نوکر واپس بھیج دیا ہوا تھا اور محمد بیبین عمر میں سب سے بڑا تھا۔وہ سمجھتا تھا کہ آپ میرے بغیرا کیلے نہیں رہ سکتے۔اس لئے اس نے آپ پر اثر ڈالنے کے لئے قسم کھا کر کہا کہ اب میں یہاں نہیں رہونگا۔گرمی نا قابل برداشت ہے تا کہ آپ بھی مجبور ہو کر متفق ہو جائیں۔آپ نے بھی اسی طرح قسم کھا کر کہا کہ میں گرمی یا کسی اور تکلیف سے اس جگہ کو جہاں میر اسبق اچھا ہوتا ہے ہرگز نہیں چھوڑونگا تا وقتیکہ میرے سبق میں کوئی حرج واقع نہ ہونے لگے۔وہ سب وہاں سے آپ کو اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔آپ کو یاد ہے کہ پینے کے لئے پانی آپ کو مشکوں سے لینا پڑتا تھا جو دھوپ میں اس قدرگرم ہو جاتا تھا کہ وضو کے قابل نہ ہوتا جب تک کہ کچھ دیر اسے سایہ میں نہ رکھا جائے۔