اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 14 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 14

۱۴ آئے تو انہوں نے نکاح خواں ملاں کو بلوایا۔ملاں نے کہلا بھیجا کہ میں وہاں آ کر بھی یہی بات کروں گا کہ عنایت اللہ جس نے آپ کی وجہ سے فلاں جگہ قرآن مجید اٹھا کر جھوٹی گواہی دی تھی میں اس کی لڑکی کا نکاح پڑھ چکا ہوں۔رئیس کے چھوٹے بھائی نے ایک نوکر کو کہا کہ ملاں کو کہو کہ آتا ہے یا نہیں یا ہم خود آئیں۔اس پر ملاں صاحب رئیس کے پاس چلے گئے۔رئیس نے کہا کہ میں فلاں جگہ گیا ہوا تھا اور لوگ زمین پر کام کر رہے تھے اور عنایت اللہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس نے مجھے کہا کہ میری لڑکی اب جوان ہے میں اس کا اختیار آپ کو دیتا ہوں۔جہاں مناسب سمجھیں رشتہ کر دیں تو میں نے اسی وقت محب اللہ جٹ سے اس کا نکاح کر دیا۔مولوی صاحب نے کہا اچھا پھر یہ بات ہوئی نہ کہ وہ نکاح پہلے ہوا اور ہم نے پیچھے پڑھا۔رئیس نے کہا کہ یہی بات تو میں کہتا ہوں۔رئیس نے محب اللہ سے نکاح کے لئے پانچ روپے لے کر کسی اور کو بھی شامل کر کے ایک دو روپئے لے کر ملاں کو دیئے اور دونوں کا نکاح پڑھوایا۔حضرت مولوی صاحب نے اسی وقت استاد سے کہا کہ میں نے حدیث تو نہیں پڑھی مگر والد صاحب سے سُنا ہوا ہے کہ العلم دين فانظروا عَمَّن تاخذونَ دِينَكُمْ اور والد صاحب کی نصیحت تھی کہ اس سے پڑھو جو دیندار ہو۔بے دین سے نہ پڑھنا۔اس لئے اس واقعہ کو دیکھ کر میں مجبور ہوں کہ آپ سے نہ پڑھوں۔اتفاقاً استاد کہیں باہر چلے گئے۔کئی روز بعد واپس آئے تو ان سے اجازت لے کر آپ ہزارہ چلے گئے۔اللہ تعالیٰ کی رزاقیت کا نظارہ ہزارہ کے ایک گاؤں سیریاں میں ایک مشہور عالم مولوی عبد الکریم صاحب کے پاس آپ پہنچے۔ان کے والد حضرت مولوی صاحب کے والد کے نھیال میں امام مسجد تھے۔اس لئے انہیں حضرت مولوی صاحب کا لحاظ تھا۔آپ کے ہمراہ سات طالب علم اور تھے اور اتنے طالبعلموں کے لئے اس جگہ گنجائش نہ تھی۔مولوی عبد الکریم صاحب نے کہا کہ اگر آپ اکیلے رہیں تو انتظام ہو سکتا ہے لیکن حضرت مولوی صاحب کو مد ین طالب علم کا اس کی نیکی اور خدمت کی وجہ سے بہت لحاظ تھا اور باقی طالب علم اس سے پڑھتے تھے۔اس لئے آپ انہیں اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتے تھے۔مولوی صاحب نے کہا کہ قریباً دو میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں بگڑا ہے اگر آپ وہاں رہیں اور یہاں آ کر مجھ سے سبق لے لیا کریں تو میں پڑھا دیا کرونگا۔چنانچہ آپ اس جگہ پہنچے۔اس وقت تک آپ پر ایسا دقت نہیں آیا تھا کہ دوسرے طالب علموں کی طرح مسجد کے مانگے ہوئے ٹکڑے کھا ئیں۔تاہٹہ میں آپ کو والدہ صاحبہ چار آدمیوں کا خرچ بھیجتی رہیں۔جب آپ داتہ میں تھے کہ وہ وفات پاگئیں۔چونکہ صحیح مسلم کتاب المقدمه باب حسن بن ربیع حدثنا حماد بن زید۔