اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 327 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 327

۳۳۱ سنائیں۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول اور آپ کے بعد غالبا مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم نے پڑھا لیکن لیکچر کا وہ اثر نہ ہوا جو مولوی عبد الکریم صاحب کے پڑھنے سے ہوتا تھا۔اسی طرح اس زمانہ میں ہماری جماعت میں کوئی اچھے پائے کا فلسفی اور منطقی دماغ رکھنے والا آدمی نہ تھا۔سو اللہ تعالیٰ نے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو ہدایت دے دی اور وہ آپ پر ایمان لے آئے۔اس کے بعد آپ پشاور میں پروفیسر مقرر ہوئے لیکن کچھ عرصہ کے بعد قادیان کی محبت نے غلبہ کیا اور آپ قادیان تشریف لے آئے اور دستی بیعت کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی صاحب سے فرمایا۔آپ یہیں رہ جائیں چنانچہ آپ یہیں رہنے لگ گئے۔بعض لوگوں نے زور دیا کہ مولوی صاحب کالج میں پروفیسر ہیں اور اچھی جگہ کام کر رہے ہیں۔انکی ملازمت سے سلسلہ کو فائدہ ہوگا اور ان کے ذریعہ تبلیغ ہوگی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو واپس جانے کی اجازت دے دی۔لیکن کچھ عرصہ کے بعد مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت لے کر واپس آگئے اور قادیان میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مولوی صاحب کامۃ کا مباحثہ مشہور ہے۔اس زمانہ میں مولوی صاحب مدرسہ احمدیہ میں پڑھایا کرتے تھے۔آپ نے کالج کی پروفیسری چھوڑ کر سکول کی مدرسی اختیار کی۔اسوقت آپ کو پندرہ بیس روپیہ ماہوار تنخواہ ملتی تھی۔میں بھی ان دنوں سکول میں پڑھتا تھا اور کچھ عرصہ میں نے بھی مولوی صاحب سے تعلیم حاصل کی ہے۔گو میرے نزدیک ان کی تعلیم کا طریقہ سکول کے لڑکوں میں کامیاب نہ تھا۔اس لحاظ سے میں نے ان کی سکول کی تعلیم سے کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھایا۔البتہ قاضی امیر حسین صاحب اچھا پڑھاتے تھے۔اور لڑکوں میں کنٹرول اور ضبط بھی اچھا کرتے تھے۔لیکن مولوی صاحب چھوٹے لڑکوں پر کنٹرول نہیں رکھ سکتے تھے۔چونکہ مولوی صاحب کی تعلیم کا رنگ فلسفیانہ تھا اس لئے وہ بچوں کے پڑھانے میں کامیاب نہ تھے۔جب مدرسہ احمدیہ کالج کی شکل اختیار کر گیا تو خاکسار کے تایا محترم حکیم دین محمد صاحب نے جو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہم جماعت تھے خاکسار کے استفسار پر تحریر کیا کہ حضرت مولوی صاحب نے ہمیں نویں اور دسویں جماعت میں ۱۹۰۲ء سے ۱۹۰۴ ء تک عربی کا نصاب اور حضرت مسیح موعود کی کتاب مواہب الرحمن پڑھائی تھی۔میں نے مولوی صاحب سے مدرسہ میں کچھ عرصہ عربی پڑھی ہے۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ مدرسہ کے زمانہ کے بعد پھر حضور نے آپ سے تعلیم پائی اور فائدہ اٹھایا۔حتی کہ آپ خلیفہ منتخب ہو گئے جیسا کہ دوسری جگہ بیان ہوا ہے۔