اصحاب احمد (جلد 5) — Page 321
۳۲۵ کام کس قدر اہم ہے اور فرمایا: - اس عرصہ میں جماعت کی توجہ ایسے کاموں کی طرف رہی کہ اسے علماء پیدا کرنے کا خیال ہی نہ آیا اور اس نے ایسے علماء پیدا کرنے کا کوئی انتظام نہ کیا جو ہر قسم کے دینی علوم کی تعلیم دے سکتے ہوں اور اس وقت حالت یہ ہے کہ اس قسم کے علماء میں سے صرف ایک باقی ہیں۔یعنی سید محمد سرور شاہ صاحب اور وہ بھی اب نہایت ضعیف العمر ہو چکے ہیں۔اس وقت ان کی عمر ستر سال کے قریب ہے۔“ ۲۸۱ ۴ - اعلیٰ تقویٰ کا شوری میں ذکر شوری ۱۹۲۵ء میں بعض فتنہ پردازوں نے بعض ممبران شوری کو ورغلا کر ان سے نامناسب اعتراضات کروائے۔چونکہ طریق نامناسب تھا اس لئے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک طویل تقریر میں ایسے اعتراضات کے نقصانات واضح کرتے ہوئے بتایا کہ کسی نقص کی اصلاح کا کیا طریق ہے اور یہ کہ سوالات کی غرض اصلاح ہونی چاہئے اور فتنہ انگیزی سے ہر حالت میں بچا اور دشمن کی بات پر یقین نہ کرنا چاہئے۔نیک ظنی ترک نہ کریں۔جو اعتراض کرتے ہیں ان کے تقویٰ و طہارت کی حالت دیکھو اور یہ بتاتے ہوئے کہ الزام لگانے والے خود مجرم ہوتے ہیں۔ایسے لوگ منافق ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی مالی امور کے متعلق اعتراض کیا گیا، حضرت عثمان پر نہایت بدکردار لوگوں نے اعتراض کئے۔انجمن کے عہد یدار بیرونی احباب کی طرح چندے بھی دیتے ہیں۔ان میں سے اکثر اعلیٰ ملازمتیں ترک کر کے قادیان چلے آئے۔باہر وہ زیادہ تنخواہیں لے سکتے تھے اور لیتے رہے ہیں۔مولوی محمد سرور شاہ صاحب کے متعلق فرمایا کہ قادیان میں ان کو پہلے ستر روپے ملتے تھے اب سو ملتے ہیں۔سو حضور نے جو کچھ فرمایا وہ ان بزرگوں کے اعلیٰ مقام پر دال ہے۔فرماتے ہیں :- بہت سے کام ایسے ہیں جو کسی ایک آدمی کے بطور خود کرنے کے نہیں بلکہ وہ کام ایک کمیٹی میں پاس ہوتے ہیں جس کے میاں بشیر احمد صاحب، قاضی امیر حسین صاحب مفتی محمد صادق صاحب، مولوی شیر علی صاحب، خلیفہ رشید الدین صاحب، ذوالفقار علی خان صاحب، چوہدری فتح محمد صاحب، چوہدری نصر اللہ خان صاحب، میر محمد الحق صاحب، مولوی سید سرور شاہ صاحب میر محمد اسمعیل صاحب، سید عبدالستارشاہ صاحب، ڈاکٹر کرم الہی صاحب ممبر ہیں۔کیا یہ سب آدمی مل کر کوئی بددیانتی کریں گے۔میری عقل تو اس بات کو نہیں مان سکتی۔۔ان حالات کو مد نظر رکھ کر سوالات کو دیکھو گو یا بیل کر فیصلہ کرتے ہیں کہ فلاں نرس جو آئی ہے اسے زیور بنا دیا