اصحاب احمد (جلد 5) — Page 9
۹ صاحب نے انہیں اس کی اطلاع دینی ضروری سمجھی لیکن آپ یہ بھی پسند نہیں کرتے تھے کہ اس کے مضمون سے کوئی دوسرا آگاہ ہومگر آپ نے لکھنا سیکھا نہیں تھا۔گو اسباق کی وجہ سے اتنی فارسی آتی تھی کہ اپنا مافی الضمیر ادا کرسکیں اور فارسی میں ہی ان دنوں خطوط لکھنے کا رواج تھا۔آپ نے یہ ترکیب کی کہ سامنے گلستاں کھول کر رکھ لی اور جو لفظ لکھنا ہوتا اس میں سے تلاش کر کے اس کی سی شکل کا غذ پر بنالیتے۔اس طرح خط مکمل کر کے نوکر کے ہاتھ والد صاحب کے پاس بھیج دیا۔انہوں نے آپ کے بھائیوں کو سرزنش کی کہ تمہیں استاد اور میں بھی با قاعدہ پڑھاتے ہیں لیکن تمہیں ابھی تک خط لکھنا نہیں آتا۔لیکن جسے کوئی نہیں پڑھا تا اس نے ایسا عمدہ خط لکھا ہے بعد ازاں ایک اور واقعہ یہ ہوا کہ والد صاحب آپ کے بڑے بھائی سے مغرب کے بعد صرف میر کا سبق سنتے تھے۔ایک روز وہ سبق سُناتے ہوئے ایک جگہ اٹکے۔والد صاحب نے پھر شروع سے سُنانے کے لئے کہا لیکن وہ پھر بھی اسی جگہ اٹک گئے۔پھر والد صاحب کے کہنے پر تیسری دفعہ جب شروع سے سُناتے ہوئے اس مقام پر پہنچے تو مولوی صاحب کے منہ سے بے ساختہ وہ لفظ نکل گیا کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ اس دفعہ بھی بھائی رُک گئے تو مار پڑے گی۔اس سے والد صاحب بہت متعجب ہوئے اور پوچھا کہ تمہیں کس طرح آ گیا۔آپ نے کہا کہ مجھے سبق ایک دفعہ سُننے سے یاد ہو جاتا ہے اور جب آپ پڑھاتے ہیں تو میں پاس بیٹھ کر سن لیتا ہوں۔اس پر انہوں نے سبق سُنانے کو کہا جو آپ نے سُنا دیا۔اس سے انہیں اس طرف توجہ ہوئی کہ آپ کو تعلیم دلانی چاہیئے۔آپ میں یہ قابلیت پائی جاتی ہے۔چنانچہ انہوں نے وعدہ کیا کہ میں تمہیں تعلیم کے لئے باہر بھیج دوں گا لیکن میں نے تمہارے بڑے بھائیوں کو کشمیر کی سیر کرائی ہے۔اس دفعہ موسم گرما میں تمہیں وہاں دو تین ماہ کے لئے لے چلوں گا۔تعلیم کا ایک اور محرک آپ کے بڑے بھائی جو بدن کے مضبوط تھے انہوں نے والد صاحب سے پوشیدہ شیر شاہ نامی پہلوان گشتی سیکھنے کے لئے رکھ لیا۔والد صاحب کو علم ہوا تو آپ نے کہا۔میں ایسی طبیعت کا ہوں کہ کسی فن کے سیکھنے سے منع نہیں کرتا بلکہ خوش ہوتا ہوں۔لیکن یہ چاہتا ہوں کہ جو بھی فن آدمی سیکھے اس میں کمال پیدا کرے اور مبالغہ کے طور پر کہا کہ چوری میں بھی اگر کوئی کمال پیدا کرے تو باوجود یکہ یہ بُری چیز ہے لیکن کمال کی وجہ سے اس کی بھی تعریف ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ میں میری عزت قائم کی ہوئی ہے اور یہاں کے سلطان ، خان وغیرہ رئیس اس وقت تک بیٹھتے نہیں جب تک میں نہ بیٹھ جاؤں اور پھر بھی برابر نہیں بیٹھتے۔اس کی محض یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے علم دیا ہے۔اگر کوئی مسئلہ دریافت طلب ہو تو میرے فتویٰ کے بغیر انہیں تسلی نہیں ہوتی۔