اصحاب احمد (جلد 5) — Page 275
حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور مکرم میاں محمد سعید صاحب سعدی لاہوری کی معیت میں علاقہ ہزارہ میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔آپ نے سید مدثر شاہ صاحب غیر مبایع کے ساتھ مباحثہ کے حالات بیان کئے۔آپ کے بعد جناب مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ( نے ) اکثر دوستوں کی خواہش پر حالات بیان کئے۔آپ نے سید مدثر شاہ کی ایک بات بیان کی کہ اس نے لوگوں میں یہ بات مشہور کر رکھی ہے کہ حضرت مسیح موعود کے وقت میں اور آپ کے بعد خلیفہ اول کے وقت میں جب کبھی حضرت خلیفہ اول بیمار ہوتے تو مولوی محمد علی آپ کی جگہ قرآن کریم کا درس دیتے تھے۔حالانکہ یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جسے ہر ایک وہ شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ اول کے وقت یہاں آیا ہو آسانی سے معلوم کرسکتا ہے۔مولوی محمد علی درس قرآن کریم دینا تو بڑی بات ہے اسے تو قادیان کے زمانہ قیام میں کبھی یہ توفیق نصیب نہ ہوئی کہ اس نے کسی ایک شخص کو بھی قرآن کریم پڑھایا ہو۔“ ۲۵۷ ” (۲) خلیفہ وقت کی بیعت ضروری ہے۔تیئیس صفحات کا یہ نہایت جامع مانع مضمون مولوی محمد علی صاحب کے مقابل عالمانہ جوابات پر مشتمل ہے۔۲۵۸ (۳) "القول الحمود فی شان الموعود نام کتاب ( صفحات ۱۷۸۔سائز ۱۸۷۲۲ مطبوعه ۱۹۱۶ ء مولوی محمد احسن صاحب کے رسالہ القول المجد فی تفسیر اسم احمد کا مسکت خصم اور مدلل جواب عالم حقائق آگاہ مولا نا مولوی محمد سرور شاہ صاحب کی طرف سے دیا گیا۔اس میں اسمہ احمد کی تفسیر کے متعلق بہت سے اعتراضات کے مسکت جوابات مرقوم ہیں۔ظلی نبوۃ اور ختم نبوت کی تشریح مسیح موعود کہنے سے آنحضرت صلعم کی ہتک نہیں بلکہ شان بڑھتی ہے آخرین منھم سے آنحضرت صلعم کی بعثت ثانیہ اور مسیح موعود کی نبوت کا ثبوت۔" تثلیث فی التوحید کے الزام کی تردید، مسیح موعود کا حکم و عدل ہونا، مسئلہ نبوۃ کی تشریح پر مفید روشنی ڈالی گئی ہے۔(۴) مولوی محمد احسن صاحب کی مذکورہ کتاب کا جواب بارہ کالم میں بعنوان سید محمد احسن امروہوی نازک حالت میں۔۲۵۹ آپ نے مولوی محمد احسن صاحب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب ان کے ہوش وحواس قائم نہیں رہے۔(۵) نبوت و کفر پر تقریر بر جلسہ سالانہ - ۲۶۰ (1) نبوت مسیح موعود، تقریر جلسه سالانه ۱۹۲۲ء- ۲۶۱ (۷) نبوت مسیح موعود اور میں۔اٹھارہ کالم کا مضمون۔مولوی محمد علی صاحب نے ٹریکٹ اتمام حجت نمبرا“ میں یہ دعا کیا ہے کہ حقیقۃ النبوة“ کی تالیف سے قبل مصنفین سلسلہ نبوت کے بارے میں کچھ اور لکھتے تھے۔