اصحاب احمد (جلد 5) — Page 262
۲۶۶ جلسہ سالانہ کے چند ہی دن کے بعد مسند احمد کا سبق تھا۔آپ نے پڑھاتے پڑھاتے فرمایا کہ مسند احمد حدیث کی نہایت معتبر کتاب ہے۔بخاری کا درجہ رکھتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ اس میں بعض غیر معتبر روایات امام احمد بن حنبل صاحب کے ایک شاگرد اور ان کے بیٹے کی طرف سے شامل ہوگئی ہیں جو اس پا یہ کی نہیں ہیں میرا دل چاہتا تھا اصل کتاب کو علیحدہ کر لیا جاتا مگر افسوس کہ یہ کام میرے وقت میں نہیں ہو سکا۔اب شاید میاں کے وقت میں ہو جاوے اتنے میں مولوی سید سرور شاہ صاحب آ گئے اور آپ نے ان کے سامنے یہ بات پھر دہرائی اور کہا کہ ہمارے وقت میں تو یہ کام نہیں ہو سکا۔آپ میاں کے وقت میں اس کام کو پورا کریں۔یہ بات وفات سے دوماہ پہلے فرمائی حمید ل آئینہ صداقت (ص۱۷۰) نیز حضور ایدہ اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں :- حضرت خلیفہ اول نے میری نسبت لکھا ہے کہ میں اسے مصلح موعود دیکھتا ہوں اور پھر آپ نے ایک بھری مجلس میں فرمایا کہ مسند احمد حنبل کی تصحیح کا کام ہم سے تو ہو نہ سکا۔میاں صاحب کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ چاہے تو ہو سکے گا اور یہ جنوری ۱۹۱۴ء کی بات ہے۔آخری بیماری سے ایک دو دن پہلے کی “ ۲۴۲ حضرت مولوی شیر علی صاحب تصدیق کرتے ہیں کہ میں نے مسند والا واقعہ حضرت مولوی شاہ صاحب سے سنا تھا۔۲۴۳ خاکسار نے یہ واقعہ بہ تصدیق مولوی محمد سرور شاہ صاحب آپ کی زندگی میں الفضل میں شائع کر دیا تھا جو درج ذیل ہے:۔حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل کے متعلق ایک روایت چوہدری بدر الدین صاحب مرحوم سکنہ راہوں سے بوساطت ان کے بیٹے چوہدری جمال الدین احمد صاحب ملی ہے اور اس کی تحریری تصدیق حضرت مولوی سرور شاہ صاحب نے کی ہے جو کہ میرے پاس موجود ہے۔حضرت مولوی سرورشاہ صاحب کے الفاظ یہ ہیں :- حضرت خلیفہ ایسیح الاوّل اپنی مرض الموت کی ابتداء میں اپنے مکان میں ہی مطب فرماتے۔بیٹھتے اور درس دیتے تھے۔ایک دن میں حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کچھ بات کر رہے ہیں اور سب دوست توجہ سے سُن رہے تھے۔تو میں بغیر بلند آواز کے سلام کرنے کے دبے پاؤں آگے بڑھا لیکن حضرت مولوی صاحب نے مجھے دیکھ لیا۔تو آپ نے میری طرف رُخ کر کے اسلام علیکم فرمایا اور فرمایا کہ میں یہ بات کر رہا تھا کہ مسند امام احمد بڑی اعلیٰ پایہ کی کتاب ہے مگر آپ کے دوشاگردوں کی وجہ سے اس میں بعض غیر معتبر روایات شامل ہو گئی ہیں۔میرا ارادہ تھا