اصحاب احمد (جلد 5) — Page 3
خاندانی جائیداد آپ کے خاندان کی جائیداد تین مقامات پر تھی۔(۱) بمقام دانہ ضلع ہزارہ۔یہ جائیداد کئی پشتوں سے چلی آتی تھی اور حضرت مولوی صاحب کے دادا صاحب نے اپنی دونوں لڑکیوں کو جو وہاں بیاہی ہوئی تھیں دیدی تھی۔یہ جائیداد اس گاؤں کے پانچویں حصہ پر مشتمل تھی۔(۲) بمقام لدرون (کشمیر) آپ کے پردادا صاحب نے ایک غیر سید غلام رسول نامی کو منہٹی بنایا ہوا تھا۔جب انہوں نے لدرون کو چھوڑ کر گھنڈی میں مستقل طور پر رہائش اختیار کر لی تولد رون کا انتظام غلام رسول کے سپر د کر دیا۔چونکہ وہ خاندانی نہیں تھا انتظام سنبھال نہ سکا اور کاشتکار اراضی پر قبضہ جماتے گئے اور خود مالک بن بیٹھے۔جب حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کشمیر میں تھے تو آپ کے والد صاحب نے حضرت مولوی صاحب کے ذریعہ راجہ کو کہلوایا۔راجہ نے کہا کہ اگر لدرون کے کا شتکار اس بات پر رضامند ہوں تو زمین دی جا سکتی ہے۔چنانچہ سید محمد صادق صاحب جود نیوی رنگ میں ہوشیار تھے۔سید جہانگیر اپنے بہنوئی کے ہمراہ وہاں گئے اور اس معاملہ کو اس طرح طے کیا کہ نصف زمین کا شتکاروں کو دے دی اور نصف اپنے قبضہ میں لے آئے۔والد ماجد توتحصیل علم کا شوق دادا ان پڑھ تھے۔اس لئے ان کے زمانہ میں خاندان کا سارا کتب خانہ ضائع ہو گیا۔والد صاحب اکیلے بیٹے تھے اس محبت کی وجہ سے وہ آپ پر زیادہ بوجھ بھی نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔مگر ایک فارسی کا استاد گلستان پڑھانے کے لئے رکھا ہوا تھا جب اس شعر پر پہنچے۔اول اندیشه و نگه گفتار پائے پیش آمد ست و پس دیوار تو استاد نے یہ ترجمہ کیا کہ پہلے سوچو اور پھر بات کرو۔کیونکہ پاؤں آگے آتے ہیں اور دیوار پیچھے۔مطلب پوچھنے پر استاد نے کہا کہ مطلب کوئی نہیں ہوتا۔تم لفظوں کے معنے سیکھ لو۔اس پر آپ نے کہا کہ اگر مطلب کچھ بھی نہیں تو میں پڑھتا ہی نہیں۔میں تو مطلب کے واسطے پڑھتا ہوں۔چنانچہ آپ نے پڑھنا چھوڑ دیا چھ ماہ کی انتظار کے بعد استاد نے سمجھ لیا کہ اب میرا یہاں رہنا بے فائدہ ہے۔پڑھتے تو ہیں نہیں۔والد صاحب کی عمر بائیس سال کی ہوئی اور ایک بیٹا بھی ہو چکا تھا اس وقت کا واقعہ ہے کہ اس علاقہ کے نواب جسے سلطان کہتے ہیں اس کا ایک وزیر امیر الملک نام تھا وہ بہت علم دوست تھا اور باوجود بڑھاپے کے کچھ