اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 152 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 152

دیگر اولا داور شجرہ نسب زوجہ ء دوم کے بطن سے آپ کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے سن بلوغ کو پہنچے۔دوفرزند اور ایک دختر زندہ ہیں تمہیں ی تفصیل درج ذیل ہے :- (۱) حلیمہ بیگم صاحبہ ( ولادت اپریل ۱۹۰۶ ء وفات ۱۹۳۴ء ) آپ کی والدہ صاحبہ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر صاحبزادہ نصیر احمد صاحب ابن حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالی) کو دودھ پلانے پر آپ ان کی رضاعی ہمشیرہ ہوئیں۔نکاح کے متعلق الفضل ۲۵-۱-۱۷ میں زیر ” اخبار احمدیہ مرقوم ہے :- میاں محمد سعید صاحب پسر سیٹھ ابوبکر صاحب آف جدہ کا نکاح حلیمہ بیگم بنت حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بقیہ حاشیہ: - بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مسماۃ محمودہ بیگم صاحبہ بنت حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب قوم سید گیلانی سکنہ قادیان - عمر ۳۵ سال وفات ۲۳-۱۰-۳۱ وصیت ۷ ۲۰۸ عمر وصیت کے ریکارڈ میں درج نہیں۔صرف کتبہ پر درج ہے جو یقیناً غلط ہے کیونکہ (۱) اس کا مطلب یہ ہے کہ مرحومہ کی ولادت ۱۸۸۸ء کے قریب کی ہے۔حالانکہ مولوی صاحب کی عمر اناسی سال ۱۹۴۷ء میں تسلیم کرنے کی صورت میں ۱۸۸۸ء میں بیس سال تھی اور ابھی آپ لاہور میں زیر تعلیم ہوں گے۔اٹھارہ سال کی عمر میں لا ہور حصول علم کے لئے آپ آئے تھے اور وہیں سے ۱۸۹۲ء میں دیو بند پہنچے تھے اور ایک سال کے بعد امتحان دیا تھا اور وہاں ایک رشتہ ملتا تھا لیکن آپ نے قبول نہیں کیا تھا ( ص ۲۲ تا ۲۶، ۳۹، ۱۸۹۳۴۰ ء تو یہاں تک ہو جاتا ہے۔(۲) آپ کی اہلیہ اول کی وفات کے وقت فاطمہ صاحبہ دس ماہ کی تھیں اور خاکسار قرائن بیان کر چکا ہے جن سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اہلیہ محترمہ کی وفات ۱۹۰۰ء میں ہوئی تھی تو ۱۹۲۳ء میں فاطمہ صاحبہ کی عمر ۲۴ سال کے قریب بنتی ہے۔(۳) اہلیہ دوم بیان فرماتی ہے کہ میری شادی ( مارچ ۱۹۰۳ء) کے وقت فاطمہ صاحبہ کی عمر چار سال تھی۔اس طرح ۱۹۲۳ء میں چوبیس سال بنتی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ کتبہ کے لئے حضرت مولوی صاحب نے عمر پچیس سال بتائی لیکن کتبہ نویس نے ۳۵ سال تحریر کر دی۔