اصحاب احمد (جلد 5) — Page 132
۱۳۶ رہتے تھے اور طالب علم تھے انہوں نے مولوی سرور شاہ صاحب کو مبارک باد دی اور دریافت کرنے پر بتایا کہ حضرت مولوی صاحب نے میاں جیون بٹ صاحب کو خط لکھا ہے کہ آپ کی لڑکی کے لئے مولوی سرور شاہ صاحب کا رشتہ میں پیش کرتا ہوں اگر آپ کو یہ رشتہ منظور نہ ہو تو آپ مجھ سے بالکل نا امید ہو جائیں۔میں پھر بقیہ حاشیہ: - یا یوں سمجھئے :- بیعت سید محمد صادق شاہ صاحب دوران سفر کشمیر۔۔۔۔بروئے الحکم ۱۷ دسمبر ۱۹۰۱ء منہائی عرصہ ترک افیون وسفر کشمیر وغیرہ سات ماہ پچیس دن تاریخ ہجرت ۲۲ / اپریل ۱۹۰۱ء (د) یہ امر خاص توجہ کے قابل ہے اس لئے قدرے تفصیل سے بیان کرنا ضروری ہے کہ جب آپ ایک دفعہ موسم گرما کی تعطیلات میں قادیان آئے ہوئے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے واپسی کی اجازت مرحمت فرمانے کے بعد پھر مہمانخانہ سے خاص طور پر بلوا کر یہ فرمایا تھا کہ میں خدا داد فراست سے آپ میں رُشد و سعادت پاتا ہوں۔آپ کم از کم آٹھ نو ماہ میرے پاس رہیں تاکہ خاص فیضان سے حصہ پائیں۔مولوی صاحب اسی وقت اور ہمیشہ کے لئے ٹھہرنے کو تیار ہو گئے لیکن حضور نے فرمایا کہ پادری ہمارے دشمن ہیں۔ہمارے پاس رہنے کے باعث وہ آپ پر کوئی مقدمہ بنادیں گے۔اس لئے آپ سر دست چلے جائیں اور پھر کسی وقت آٹھ نو ماہ کی رخصت لے کر آجائیں۔(ص۵۵،۵۴) حضور کی ایسی تاکید اور مولوی صاحب کی ایسی آمادگی سے یہ سمجھنا بر حل ہے کہ آپ اولین موقع پر ہجرت کر آئے ہوں گے کیونکہ آپ ہمیشہ کے لئے آنا چاہتے تھے اس لئے آپ ملازمت سے سبکدوشی حاصل کر کے آئے ہوں گے اور تعلیمی اداروں میں تعلیمی سال کے اختتام پر سبکدوشی میں سہولت ہوتی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۱۵ را پریل کے لگ بھگ جبکہ بعد سالانہ امتحانات موسم بہار کی تعطیلات ہوتی ہیں آپ ہجرت کر کے آئے ہوں گے یا رخصت لے کر آئے ہوں گے۔ممکن ہے وہاں سے چند دن کے لئے آپ اپنے وطن گئے ہوں اور پھر قادیان آئے ہوں۔سو ہجرت ( اپریل یا مئی ۱۹۰۱ء) سے قبل موسم گرما میں ہی یہ خاص ملاقات ہوئی ہوگی جس کا اوپر ذکر ہے چنانچہ ۱۹۰ء میں موسم گرما میں ماہ جولائی میں آپ کی قادیان میں آمد ثابت ہے۔( بروئے الحکم ۱۶ جولائی۔زیرہ دار الامان کا ہفتہ ) آپ کی اہلیہ صاحبہ بتاتی ہیں کہ مولوی صاحب ہجرت سے پہلے ایک دفعہ چھ ماہ کی رخصت پر آئے تھے۔گویا آپ نے سبکدوشی سے قبل تعلیمی سال نو کے آغاز پر چھ ماہ کی رخصت لی ہوگی۔واللہ اعلم بالصواب۔