اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 130 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 130

۱۳۴ نہ تھا۔رمضان میں ڈاکٹر عباد اللہ صاحب امرت سری آکر قادیان میں اعتکاف بیٹھے۔مولوی صاحب کے دریافت کرنے پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ عید کے لئے ٹھہرنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن میں نے میاں جیون بٹ صاحب کا پیغام حضرت مولوی نورالدین صاحب کو پہنچانا ہے۔اس لئے ٹھہر نا پڑے گا۔ان کا پیغام یہ ہے کہ بقیہ حاشیہ نتیجہ: یکم مارچ ۱۸۹۷ء تا یکم اپریل ۱۹۰۱ ء کا عرصہ قیام پشاور کم از کم چار سال ایک ماہ ثابت ہے۔اس سے آپ کے اس بیان کا سہو ظاہر ہے کہ آپ کا قیام وہاں ۲ سال رہا۔چار سال کے متعلق سہو ہو کر ۲ سال کہنا سمجھ میں آ سکتا ہے لیکن آٹھ نو سال کے عرصہ کے متعلق عقل باور نہیں کر سکتی کہ سہو ہو کر اڑ ہائی سال بیان کر دیا۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بیعت ۱۸۹۳ء کی ثابت نہیں ہوتی۔ورنہ اس کے بعد ۱۹۰۱ء میں ہجرت تک آٹھ نو سال کا عرصہ بنتا ہے نہ کہ ۲ سال سے ملتا جلتا عرصہ چار سال۔(ب) مطبوعہ لٹریچر سے قیام پشاور کے تعلق میں مندرجہ بالا ( نمبر ۲ زیر الف ) ہی آخری اندراج ملا ہے جسے ہم قیام پشاور کی آخری تاریخ سمجھ کر صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہیں تو دیگر صورتوں سے ماخوذ نتائج سے قریباً مطابقت نظر آتی ہے۔مثلاً آپ ہجرت کر کے آئے تو چند دن کے لئے نشہ لے کر آئے ہوں گے نشہ کے عادی سفر میں جاتے ہوئے کچھ دنوں انداز اپندرہ دن کا نشہ لے کر چلتے ہیں ترک افیون کا ایک باعث حضور کی نصیحت تھی اور دوسرا باعث روپیہ ختم ہونا تھا (ص ۵۷) یہ ظاہر ہے کہ پہلے ہی دن روپیہ ختم نہیں ہوا ہوگا۔ترک افیون سے بیمارر ہے (ص۵۷) چالیس دن چھ ماہ سفر کشمیر (ص ۵۷) میزان : سات ماہ پچپیس دن تاریخ ہجرت اندازاً ۲ / اپریل ۱۹۰۱ء تاریخ وا پسی از کشمیر ۲۷ / نومبر ۱۹۰۱ء (ج) شحنہ ہند میرٹھ کو جو ایک صدا حباب کے دستخط سے حضرت اقدس سے مقابلہ کرنے کی دعوت دی گئی تھی ان میں آپ کا نام اٹھائیسویں نمبر پر مولوی سید سرور شاہ صاحب کشمیری مظفر آبادی مرقوم ہے ( الحکم ۱۴۳ ص اک (۲) اس وقت تک آپ یقینی طور پر سفر کشمیر سے واپس آچکے تھے۔چنانچہ مزید ثبوت یہ بھی ہے کہ آپ کو