اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 83 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 83

۸۳ کذاب ہو سکا ہے جو قیامت کے دن جب عدالت کے تخت پر خدا بیٹھے گا اس کے سامنے جھوٹ بولے گا۔کیا اس سے بدتر کوئی اور جھوٹ ہوگا کہ وہ شخص جو قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئے گا اور چالیس برس دنیا میں رہے گا اور نصاری کے ساتھ لڑائیاں کرے گا اور صلیب کو توڑے گا۔وہی قیامت کے دن ان تمام واقعات سے انکار کر کے کہے گا کہ مجھے خبر نہیں کہ میرے بعد کیا ہوا۔۱۲ - پھر آپ لوگ اور مولوی ثناء اللہ جو اس آیت ( یعنی وَأوَيْنَهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِينٍ ) سے انکار کر کے دوسرے آسمان پر اس کو پہنچاتے ہیں۔۱۳ - 1+ پھر کہتے ہیں کہ عیسی کی نسبت ہے وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ جن لوگوں کی یہ قرآن دانی ہے ان سے ڈرنا چاہیئے کہ نیم ملا خطرہ ایمان۔اے بھلے مانسو! کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عِلْمٌ لِلسَّاعَةِ نہیں ہیں جو فرماتے ہیں ” بعثت انا والساعة۔۔۔۔کھاتین “ اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقُّ الْقَمَرُ 11- مولوی ثناء اللہ نے موضع مد میں بحث کے وقت بھی کہا تھا کہ سب پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں۔اس لئے ہم ان کو مدعو کرتے ہیں اور خدا کی قسم دیتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کے لئے قادیان میں آویں۔۔۔اور تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کریں۔لیکن اگر میرے اس بیان کی طرف توجہ نہ کریں اور اس تحقیق کے لئے بپابندی شرائط مذکورہ جس میں بشرط ثبوت تصدیق ورنہ تکذیب دونوں شرط ہیں قادیان میں نہ آئیں تو پھر لعنت ہے اس لاف وگراف پر جو انہوں نے موضع مد میں مباحثہ کے وقت کی اور سخت بے حیائی سے جھوٹ بولا۔۱۵ دو بعض کا یہ خیال ہے کہ اگر کسی الہام کے سمجھنے میں غلطی ہو جائے تو امان اٹھ جاتا ہے اور شک پڑ -۱۲ جاتا ہے کہ شاید اس نبی یا رسول یا محدث نے اپنے دعوی میں بھی دھوکا کھایا ہو۔14 مولوی ثناء اللہ صاحب کو یہ بھی ایک دھوکا لگا ہوا ہے کہ وہ متناقض حدیثوں کو ہر ایک کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔یہی دھو کا ان کے بزرگ مولوی محمد حسین صاحب کو لگا ہوا ہے اور ہر ایک مقام میں جب حیات و ممات حضرت عیسی کے متعلق کوئی ذکر آوے تو جھٹ حدیثوں کا ایک ڈھیر پیش کر دیتے ہیں کہ دیکھو صحیح بخاری، صحیح مسلم ، جامع تر مندی ، سُنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد، سنن نسائی ، مسند امام احمد، طبرانی مجم کبیر ، نعیم ابن حماد، مستدرک حاکم، صحیح ابن خزیمہ، نوادر الاصول ترندی، ابوداؤد طیالسی، احمد مسند الفردوس، ابن عساکر، کتاب الوفا ابن جوزی ،شرح السنہ بغوی، ابن جریر، بیہقی ، اخبار المهدی، مسند ابی یعلی وغیرہ کتب احادیث۔ان میں یہی لکھا ہے کہ عیسی" نازل ہوگا گو بیت المقدس میں یاد دمشق میں یا افیق میں یا مسلمانوں کے لشکر میں۔اس کا کوئی فیصلہ نہیں اور یہ ہوا ہے جو آجکل پیش کیا جاتا ہے اور عجیب تریہ کہ بعض ان کتابوں میں سے ایسی نایاب ہیں کہ ان