اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 69 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 69

۶۹ مباحثہ نہیں ہو گا بلکہ جھگڑا اور فساد ہوگا۔میں نے مولویوں کی باتیں سنی ہیں۔کب تک مولوی ثناء اللہ انہیں روکیں گے مسئلہ نبوت کو درمیان میں لاکر فساد برپا کریں گے۔مولوی ثناء اللہ صاحب حضرت مولوی صاحب کی شرافت کی وجہ سے لحاظ کرتے تھے۔ان کے پرچہ کا جواب لکھتے ہوئے مولوی عبد اللہ صاحب کشمیری کو ان کا اصل مضمون دیکھنے کی ضرورت پڑی تو مولوی ثناء اللہ صاحب کے ایک ساتھی نے پر چہ نہ دیکھنے دیا۔مولوی صاحب کے کان میں بھی آواز پڑ گئی تو انہوں نے اپنے ساتھی کو کہا کہ مضمون دکھا دو۔اگر مولوی سرورشاہ صاحب سارے پرچے بھی اپنے ہمراہ لے جائیں تب بھی ان میں کوئی رد و بدل نہیں ہوگا۔حضرت مولوی صاحب نے اپنے ساتھیوں کو دعا کے لئے کہا۔نماز کے سجدہ میں آپ کو ایک آیت سوجھی کہ جس سے آپ اس موقع پر استدلال کریں اور نماز کے بعد آپ نے کہا کہ مشکل کا حل سمجھ میں آ گیا ہے اور آپ نے یہ لکھوایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمُطَهَرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ * * غیر احمدیوں کے نزدیک وہی مسیح ناصری دوبارہ آئیں گے لیکن نبی نہ ہوں گے۔مگر اس وعدہ الہی سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت تک ان کے نہ ماننے والے کافر ہوں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ نبی ہی ہوں گے۔اس دفعہ بھی آپ نے کوئی زبانی تقریر نہیں کی۔اس کے جواب میں مولوی ثناء اللہ صاحب اُٹھے اور مولویوں نے انہیں بہت اکسایا کہ مسئلہ نبوت درمیان میں لا کر اس پر مباحثہ کیا جائے لیکن مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس امر سے انہیں کھلم کھلا طور پر باز رکھا اور اس کے بعد مباحثہ ترک کر دیا۔حضرت مولوی صاحب نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو کہ دیا تھا کہ آپ نے احمدی اور آریہ لوگوں سے جو مباحثے کئے ہیں شائع کر دیئے ہیں لیکن اس مباحثہ کو آپ ہر گز شائع نہیں کریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔مولوی ثناء اللہ مسئلہ نبوت پر بحث میں نہیں پڑنا چاہتے تھے ( جیسا کہ آگے ذکر آتا ہے ) مولوی اس مسئلہ کی آڑ لینا چاہتے تھے۔معلوم ہوتا ہے مولوی ثناء اللہ کے نزدیک اس وقت پیشگوئیوں پر اعتراضات کا مسئلہ زیادہ جوش دلانے والا تھا اور اس بارہ میں اس نے کمی نہیں کی۔لوہار نے اپنی سلیم الفطرتی سے یہ سمجھ لیا ہو گا کہ مولوی ثناء اللہ جو مسئلہ نبوت پر بحث سے انکار کرتا ہے اور مولویوں کو روکتا ہے اس کی غرض یہ ہے کہ فساد نہ ہو۔لوہار کے نزدیک صرف یہی بات فساد کا موجب بن سکتی ہوگی لیکن ثناء اللہ جیسے ہوشیار شخص نے کسی اور بات کو موقع کے مطابق زیادہ مناسب سمجھا ہو گا۔مؤلف آل عمران: ۵۶