اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 667 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 667

۶۷۴ ( نمبر ۱۸) بیان مولوی صاحب اس جگہ اور ساتھ کی خالی جگہ میں حضرت نانا جان جزی کاشت کرواتے تھے۔پھر آپ نے یہ کمرہ تعمیر کروایا جس کا ایک دروازہ مغرب کی طرف ایک کھڑ کی جنوب کی طرف اور غالبا دو کھڑکیاں یا دروازے مشرق کی طرف تھے۔اسی کمرہ میں مدرسہ تعلیم الاسلام کی شاخ (جماعت) دینیات کا حضرت اقدس کے زمانہ میں افتتاح ہوا تھا۔ابتداء میں اس جماعت کے چھپیں ستائیس طالبعلم تھے بالآ خر صرف دو یعنی میں اور مولوی احمد بخش صاحب مرحوم ساکن ضلع گجرات باقی رہ گئے تھے غالباً حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ہمیں پڑھاتے تھے۔اب یہ کمرہ موجود نہیں۔البتہ خلافت ثانیہ میں قریباً اس ساری زرعی قطعہ پر عمارت تعمیر ہوئی جس میں دار الشیوخ کے تیامی وغیرہ قیام رکھتے تھے۔خلافت ثانیہ میں کچھ عرصہ اس کے بالا خانہ میں الفضل کا دفتر بھی رہا۔دینیات کی شاخ ۱۹۰۶ء میں جاری ہوئی تھی۔مؤلف ) ( نمبر ۱۹، وسطی پھاٹک سے ملحق جانب شمال یہ ایک لمبا کمرہ تھا جو بوقت تحریر دو کمروں میں منقسم ہو چکا ہے۔بیان مولوی صاحب) حضرت اقدس کے زمانہ میں میرے والی جماعت بھی اس میں تعلیم پاتی تھی۔بعد میں حضور کے زمانہ میں یہ کمرہ بطور بورڈ نگ استعمال ہونے لگا چنانچہ میں بھی بطور بور ڈر اس میں مقیم رہا ہوں۔اس کے تین تین دروازے جانب مشرق و غرب تھے۔جواب بھی موجود ہیں۔اصحاب احمد جلد دوم میں حضرت مولوی محمد دین صاحب ناظر تعلیم ربوہ کا کالج کے متعلق بیان درج ہے۔پرانے صحن مدرسہ کا شرقی کمرہ بھی استعمال ہوتارہا (صفحہ ۱۸۲) پیمائش شرقا (باہر سے) سولہ فٹ دو انچ (اندر سے ) ۲ افٹ شمالاً جنوبا (باہر سے) تینتیس فٹ (اندر سے ) تمیں فٹ۔نمبر 19 کی شرقی وغربی اور جنوبی دیوار میں غلافی ہیں اور ۲۰۱۹ کی درمیانی دیوار ابھی تک اولیس حالت میں ہے یعنی خام ہے۔(نمبر ۱،۲۰) بیان مولوی صاحب۔یہ دونوں کمرے بھی حضور کے زمانہ کے ہیں اور مدرسہ کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔پیمائش نمبر ۲۰۔شرقا غربا (ندر سے) ساڑھے بارہ فٹ شمالاً جنوبا (با ہر سے ) ساڑھے چالیس فٹ۔پیمائش نمبر ۱۹۔شرقا غربا اندر سے بارہ فٹ (اندر سے ) سوا بائیس فٹ۔نمبر ۲۰ کی شرقی و شمالی دیواریں اور نمبر ۲۱ کی شمالی دیوار پختہ بن چکی ہیں۔ہر دو کی بقیہ دیوار میں ابھی خام اور اولیس حالت میں ہیں۔