اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 647 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 647

۶۵۳۔کو دیکھتے ہیں تو وہ اس سے بھی لاکھوں کوس آگے نظر آتی ہے۔پھر انبیاء کے ساتھ جو خداوند تعالیٰ کا معاملہ ہوتا ہے وہ اس کی نسبت نرالا اور بالا ہوتا ہے جو کہ عامتہ الناس سے رکھتا ہے۔مثلاً ایک سے کلام کرتا ہے۔دوسرے سے نہیں کرتا۔ایک کو اپنے بعض غیوں پر اطلاع بخشتا ہے۔اور دوسرے کو نہیں بخشا۔ایک سے مادی نظر سے بالا نصرت شامل کرتا ہے۔اور دوسرے کو ایسی نصرت نہیں دیتا۔پھر شخصی اضطرار رب العالمین کے فیض کو کھینچ لاتا ہے تو جب بڑی بھاری قوم اضطرار میں ہو۔اور قوم بھی وہ جس میں خدا کا کلیم اور مستجاب الدعوات موجود ہو۔اس کا اضطرار اگر رب العالمین کے فیض کو جذب کرے اور باہمحتاج کے لئے وہ کوئی خاص چیز پیدا کر دے یا بھیج دے تو اس میں کیا تعجب ہے۔پنجاب کے عام لوگوں سے میں نے سنا ہے کہ وہ کسی مشہور قحط کی نسبت سناتے ہیں کہ اس میں ایک خاص بوٹی کثرت کے ساتھ پیدا ہوگئی تھی۔جس کو لوگ کھایا کرتے تھے۔پھر مسافروں اور سیاحوں سے اکثر ایسی خدا کی عجیب دستگیریوں کی مثالیں سننے اور پڑھنے میں آتی ہیں۔اور پھر مثل مشہور ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے کیونکہ اضطرار سے ایک طرف خدا کا فیض جوش میں آتا ہے جو کہ حقیقی موجد ہے۔اور دوسری طرف انسان کچی سعی بھی کرتا ہے۔جو کامیابی کا ذریعہ ہے۔پس بعد میں اگر وہ جاری رہی تو تعجب انگیز نہیں ہوتی۔اور اگر بعد میں اس کا اجرا نہ ہوا تو باعث تعجب ہو جاتی ہے۔مثلاً جن لوگوں نے اضطرار کی حالت کے وقت بیابان میں ایک ایسی جڑھ پائی جو کہ مدت دراز تک ان کے لئے روٹی کا کام دیتی رہی۔جب وہ آبادی میں آئے تو کاشت کے لئے اس کو ساتھ لائے اور اس کو ترقی دی یہاں تک کہ وہ عام ہو گئی۔جس کو آلو کہتے ہیں تو اب یہ امر کچھ تعجب انگیز نہیں کہ فلاں فوج نے جنگل میں آلو پائے اور مدت تک کھائے۔لیکن اگر وہ ساتھ نہ لاتے اور ان کی کاشت کا رواج نہ ہوتا تو اب اگر یوں ذکر کیا جاتا کہ فلاں فوج نے فلاں جنگل میں ایسی تنگی کے وقت میں جبکہ خوراک کے نہ ملنے سے قریب تھا کہ وہ ہلاک ہو جائے۔ایک جڑھ پائی جو کہ انڈے کی سی شکل اور لذت رکھتی تھی۔اور ایسی تھی ویسی تھی۔ایسا ہوا ویسا ہوا تو بنی اسرائیل کے من سلوی سے یہ کچھ کم تعجب خیز نہ ہوتا اور پرندوں کا ساحلوں اور ریگستانوں میں ہوا سے جمع ہونا اور ان کا بے طاقت سا ہو جانا یہ تو ایک معمولی بات ہے۔“ ١٠ وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدَاوَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُوْلُوْا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطيكُمْ وَسَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِينَ ( البقرہ ع۶) کی تفسیر میں آپ فرماتے ہیں۔عبداللہ بن عباس ، عبد اللہ بن مسعود، قتادہ، سدی، ربیع و غیر هم سے مروی ہے کہ اس قریہ سے بیت المقدس مراد ہے اور یہ مشہور ہے۔اس صورت میں یہ بات مشکل فیصلہ ہوسکتی ہے کہ یہ امر اور وہ امر جو کہ یا قوم ادخلوا الارض المقدسة۔میں مذکور ہے کہ ایک ہی ہیں یا جدا جدا ہیں اکثروں نے تو جدا ہی قرار دئے ہیں