اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 646 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 646

۶۵۲ خداوند کریم نے موسیٰ پر ظاہر کیا کہ کتاب لینے کے لئے بڑی تکلیف اٹھانی پڑے گی جو کہ نہایت ہی دشوار ہے۔اور وہ پہاڑ پر چالیس راتیں رہنا۔الغرض اس وقت تو محض شرط وعدہ کے مشکلات کے اظہار کے لئے تھا اور جو بنی اسرائیل کو وہ واقعہ یاد دلانے کے وقت قرآن مجید میں لایا گیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لیل فرما کر خداوند کریم اس بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ موسیٰ پہلے اگر دن کو تم سے جدا ہوتا تھا تو رات کو ضرور تم میں واپس آجاتا تھا۔اور اس کے وعظ ونصیحت اور دعاؤں سے تم ثابت رہتے تھے لیکن جو نہی تھوڑے عرصہ کے لئے رات کے وقت تم سے جدا کیا تو معا تم اس شرک میں جا پڑے۔جس سے بچانے کے لئے بہت سے انبیاء تمہارے خاندان میں آئے اور اس سے بچنے کی وصیت کرتے رہے۔اور موسیٰ“ بھی عرصہ دراز تک کوشش کرتا رہا۔ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ۔ثُمَّ لایا گیا ہے جو دیر اور ڈھیل پر دلالت کرتا ہے۔حالانکہ یہاں پر یہ معنے ٹھیک نہیں بن سکتے کہ اس وعدہ کے بعد بہت دیر کر کے پھر انہوں نے بچھڑا بنایا۔پس واضح ہو کہ قسم بعض وقت مرتبہ کی دوری کے لئے بھی آتا ہے۔اور یہاں پر بھی یہی مراد ہے۔پس اس کے ساتھ ان کو اس امر کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دیکھو موسیٰ کے اس قدر لمبا عرصہ تمہارے ساتھ رہنے اور کوشش کرنے اور پھر اس قدر نشانات دیکھنے اور اپنی نجات اور دشمن کی ہلاکت ملاحظہ کرنے اور پھر موسیٰ" کی چالیس روز غیبت میں تمہارے بچھڑا بنا لینے میں کس قدر بعد اور دوری ہے اور یہ کہ دیکھو کہ کس قدر خلاف اور دور از امیدا مرتم سے ظاہر ہوا ہے کہ موسیٰ تو یہ امید کر کے کہ اب میری قوم شریعت پر استقامت دکھانے کے قابل ہو گئی ہے ( جو کہ بہت سے اوامر ونواہی کا مجموعہ ہوتی ہے ) ایک بڑی مشکل شرط منظور کر کے کتاب لینے جاتا ہے۔اور تم اس کے جانے کے بعد اس ایک حکم کی بھی خلاف ورزی اختیار کر لیتے ہو جس کی پابندی کی تاکید نسل به نسل تمہارے مسلمہ انبیاء سے تم تک پہنچتی تھی۔اور جس کی پابندی کی آج کے دن تک موسیٰ کوشش کرتا رہا۔“ سلوی ٩ - وَأَنْزَلَنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ والسَّلُوی۔(البقرہ ع۶) میں سلوی کی تفسیر میں حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں۔و سلویٰ کی نسبت ہمارے مفسروں نے تو لکھا ہے کہ وہ آسمان سے آتے تھے اور بعض نے لکھا ہے کہ وہ پکے ہوئے آتے تھے۔لیکن محققین اور تورات دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ایک ہوا اٹھتی تھی اور بٹیریں ان کے پڑاؤ کے گرد جمع کر دیتی تھی۔تب وہ ان کو پکڑ لیتے تھے۔بعض لوگ ایسے واقعات کو بعید خیال کر کے انکار کی راہ اختیار کرتے ہیں۔لیکن ہمیں تو اب تک انکار کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوئی۔کیونکہ جب خداوند تعالیٰ کی قدرت