اصحاب احمد (جلد 5) — Page 637
۶۴۳ اور مثل کیا اس سے بڑھ کر لاتے رہے ہیں۔پہلے زمانہ کا ایک مصنف یا منشی یا شاعر یا کاریگر ہوتا ہے۔جو بڑا لائق و فائق اور بے عدیل و بے مثل خیال کیا جاتا ہے پھر کچھ عرصہ کے بعد اور آ جاتا ہے جس کو لوگ اس سے بھی زیادہ ماننے لگتے ہیں۔پرانے فلاسفر اپنے اپنے زمانہ میں خود بھی شیخ سعدی کی مانند اپنے آپ کو ہم بھی کچھ ہیں بلکہ جو کچھ ہیں ہم ہی ہیں خیال کرتے تھے۔اور لوگ بھی ان کو بے مثل و بے بدل یقین کرتے تھے لیکن جب نئے فلسفہ کا زمانہ آیا تو لوگ پہلے فلاسفروں اور ان کے فلسفہ کو اس کے مقابل میں لاشئی محض اور قابل شرم غلطیوں کا طومار یقین کرتے ہیں۔اسی طرح مصنفین کا بھی حال ہے ہاں یہ صحیح ہے کہ بعض تصنیفیں زیادہ شہرت اور رواج پکڑ جاتی ہیں۔اور جو ان سے ہزار ہا درجہ بہتر ہوتی ہیں ان کو عام لوگ جانتے تک نہیں۔یہ سب باتیں بالکل واضح ہیں۔لیکن عناد اور تعصب کا کیا علاج ہو میں اس سے بڑھ کر سناتا ہوں۔جب خدا وند کریم نے اپنے پیارے خاتم الانبیاء کے معجزات اور برکات کو دوبارہ دنیا میں تازہ کرنا چاہا تا کہ آپ کی صداقت کی دنیا پر از سرنو حجت پوری کرے تو خداوند نے اس زمانہ میں اپنے ایک پیارے برگزیدہ بندے کو مسیح موعود اور مہدی معہود اور بروز محمدی بنا کر دنیا میں معبوث فرمایا۔اور علاوہ اور منجزات ونشانات کے ایک معجزہ یہ بھی آپ کو عنایت کیا کہ آپ نے بہت سی کتابیں عربی میں پُر از حقائق و معارف قرآنیہ لکھیں اور بڑی تعدی سے ان میں سے ہر ایک کی مثل عرب و عجم سے طلب کی اور قرآنی مطاع کی مانند ان کو اختیار دیا کہ اپنے سب مددگاروں کو بلالیں۔اور پھر ساتھ ہی یہ پیشگوئی بھی کر دی کہ ہر گز کوئی ان کی مثل نہ لا سکے گا۔چنانچہ ان کتابوں کو شائع ہوئے سالہا سال گزر چکے اور عرب و عجم ان میں سے ایک کی مثال بھی نہ لا سکے۔حالانکہ مخالفت کی کوئی حد نہیں۔اور آپ کی تکذیب کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور ہزار ہا مخالف ہیں کہ ان کا رات دن میں بجز اس کے کوئی شغل ہی نہیں اور طوماروں کے طومار اور انباروں کے انبار آپ کی تردید میں شائع کر چکے ہیں۔جس سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوسکتا۔لیکن ان کی مثل کا لانا بہت ہی مفید امر تھا کیونکہ آپ نے اپنے صدق و کذب کا سارا دارو مدار مثل لانے نہ لانے پر رکھ دیا تھا۔لیکن اب تک کوئی بھی نہیں لایا۔“ - إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيَ أَنْ يَضُرِبَ مَثَلاً مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا۔(البقرہ ع۳) کی تفسیر میں آپ فرماتے ہیں۔است حیاء کے معنوں میں نفس اور انقباض کے لفظ کو دیکھ کر یہ خیال کر لینا ( کہ اگر انہی معنوں کی نسبت خدائے عزوجل کی طرف کی جائے تو پھر لازم آئے گا کہ خدائے قدوس کے لئے انسانوں کے نفس کی مانند نفس ہو اور پھر ان کے نفس کے انقباض کی طرح خدا کے نفس کا انقباض بھی ہو۔حالانکہ خدائے قدوس اس سے پاک ہے ) درست نہیں ہے۔اس لئے کہ اگر چہ خداوند تعالیٰ کے لئے نفس انسانی اور اس کے انقباض کی مانند نفس اور