اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 43 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 43

۴۳ برآمدہ میں قبلہ رو بیٹھے قرآن مجید پڑھ رہے ہیں۔اس اثناء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ تشریف لائے اور مولوی صاحب کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام بات کرنے کے لئے تلاوت ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔مولوی صاحب کے دل میں کبھی خیال آتا ہے کہ ایک آدمی کے واسطے میں قرآن مجید کی تلاوت کیوں بند کر دوں۔پھر خیال آتا ہے کہ یہ امر شرافت سے بعید ہے کہ ایک شریف آدمی انتظار میں کھڑار ہے اور میں اس کی پرواہ نہ کروں اور تلاوت میں مشغول رہوں اور یہی خیال غالب آیا اور آپ قرآن مجید بند کر کے کھڑے ہو گئے اور آپ کے سلام کرنے سے قبل حضور نے السلام علیکم کہا۔مولوی صاحب نے وعلیکم السلام کہا اور حضور نے ہاتھ بڑھایا۔مولوی صاحب نے مصافحہ کیا۔حضور نے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا کہ اب تو وقت نزدیک آ گیا ہے۔اب تو تم میری مخالفت چھوڑ دو۔آپ کی طبیعت میں تر ڈر پیدا ہوا کہ اگر میں کہتا ہوں کہ میں خلاف نہیں کرتا تو یہ جھوٹ ہوگا اور اگر کہتا ہوں کہ خلاف کرتا ہوں تو یہ شرافت کے خلاف ہے کہ ایک معزز شخص کے منہ پر ہی ایسی بات کہوں۔معا خیال آیا کہ گذشتہ کو جانے دو اور یہ جواب دو کہ میں آئندہ خلاف نہیں کروں گا اور آپ نے یہی جواب دیا۔آخری خواب کا اثر اس خواب کی ملاقات کا آپ پر یہ اثر ہوا کہ وہی باتیں جن میں پہلے آپ کا خیال مخالف طرف جایا کرتا تھا۔اب آپ سوچتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی پکڑ کر حضور کی باتوں کی طرف لے جاتا ہے اور وہ باتیں خود ہی صاف ہو جاتی ہیں۔اس کے بعد مولوی صاحب نے قرآن مجید والے شاگردوں کو کہا کہ آجکل وفات و حیات مسیح اور مردوں کے دوبارہ زندہ ہو کر واپس آجانے پر بخشیں ہو رہی ہیں۔قرآن مجید پڑھتے ہوئے ہمیں ان مسائل کے متعلق پوری تحقیق کر لینی چاہیئے۔اب یہ التزام کر لیا گیا کہ ان تمام مسائل کی جن میں مولوی لوگ حضور سے مخالف طرف اختیار کرتے تھے تحقیق کرنی شروع کی۔اتفاق سے ان دنوں وفات مسیح کے متعلق آیات زیر درس تھیں اور یہ مسئلہ خصوصیت سے زیر توجہ آ گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے چند دنوں میں ہی اُستاد اور شاگرد تینوں کا اس پر اتفاق ہو گیا کہ ان مسائل پر جو کچھ حضور بیان کرتے ہیں وہی حق ہے اور مولوی صاحب نے بیعت کا خط لکھنے کا تہیہ کر لیا۔ان بھائیوں کا وطن موضع ہر ناڑہ ہے جوا یبٹ آباد کے قریب دامن کوہ میں ہے ان میں سے بڑے محمد عرفان ہیں۔انہوں نے مولوی صاحب کو بتایا کہ آپ کی بیعت سے ہفتہ عشرہ قبل میں نے بیعت کر لی ہے۔یہ صاحب قادیان کبھی نہیں آئے۔احمدی کہلاتے ہیں۔موسم گرما میں سرکاری دفاتر گلیات میں آجاتے ہیں۔ان دنوں وہاں امراء کو پڑھانے وغیرہ کا کام کر لیتے ہیں اور موسم سرما میں گلیات کے