اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 625 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 625

۶۳۱ متاخرین بعض اتباع نے گوفریق ثانی کے دلائل اور اعتراضوں سے دب کر قلب کے کچھ ایسے معنے بتائے ہیں جو کہ پہلے مذہب سے تطبیق کھاتے ہیں لیکن یہ بہت بعید تاویل ہے جو کہ نقل صحیح اور لغت کے خلاف ہے۔فریقین اپنے اپنے مذہب کے دلائل بیان کئے ہیں۔فریق اول نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دماغ کے خلل سے قویٰ میں خلل آتا ہے۔اور دماغ کی درستی سے قومی کا درست ہونا اس بات کا شاہد ناطق ہے کہ مرکز قوی دماغ ہے۔نیز چونکہ قومی کے حامل پیٹھے ہیں۔اور ان کا مرکز دماغ ہے۔لہذا مرکز قولی بھی دماغ ہونا چاہئے۔فریق ثانی کے متاخرین اتباع نے ایک تو یہ وجہ بیان کی ہے کہ سب انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہے کہ قلب مرکز ہے۔اور انبیاء کے علوم کی بناء کسی انسانی من گھڑت پر نہیں ہوتی۔بلکہ براہ راست عالم الغیب اور حکیم خدا سے لیتے ہیں۔اس لئے ممکن نہیں ان کے علوم اور ( خصوصاً متفق علیہ علوم میں کس طرح کی غلطی ہو۔پھر انبیاء کے سوا ہم اور دنیا کو دیکھتے ہیں کہ حب و بغض و غیرہ امور کو قلب ہی سے متعلق بیان کرتے ہیں۔اور تجربہ بھی گواہ ہے کہ ان امور کے باعث جو کیفیات عارضی ہوتی ہیں۔وہ بھی قلب پر ہی عارضی ہوتی ہیں اور دنیا بھی ان کو قلوب ہی کی طرف منسوب کرتی ہے اور دماغ کے خلیل اور صحت سے قومی کا خلل ناک یا درست ہونا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ ان کا مرکز دماغ ہے کیونکہ آلات وغیر ہا میں نقص آنے سے بھی فعل میں نقص آجایا کرتا ہے۔مثلاً آنکھ کے ذریعہ سے جو علوم حاصل ہوتے ہیں فلاسفروں کے نزدیک ان کا مرکز آنکھ کا کوئی پردہ یا پانی نہیں ہے لیکن آنکھ کے اجزاء کے خلل سے ان علوم میں خلل آجاتا ہے۔اور ان کی صحت سے یہ علوم صحیح ہوتے ہیں۔الغرض کہ فریقین کی طرف سے اس قسم کی بہت کچھ لے دے ہوئی ہے لیکن جس طرح میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ محققین کے مابین نزاع حقیقی نہیں ہوتا بلکہ لفظی ہی ہوتا ہے۔جو فقط لفظوں کی تشریح سے ختم ہو جاتا ہے۔اسی طرح عقل صحیح او نقل صحیح میں بھی حقیقی نزاع اور مخالفت نہیں ہوتی۔اور جہاں کہیں بظاہر تخالف نظر آتا ہے تو وہ مخالف لفظی ہوتا ہے یا زیادہ سے زیادہ نا کبھی کا نتیجہ ہوتا ہے۔اور بس اور یہاں پر بھی ایسا ہی ہے۔ایک طرف تو سب انبیاء علیہم السلام قلب کو مرکز قرار دیتے ہیں۔اور ایک طرف پرانی اور نئی تحقیق اس امر کی شہادت دیتی ہے کہ دماغ مرکز ہے اور بظاہر دونوں نہایت متخالف امور ہیں حالانکہ نقل اور عقل صحیح کا قاعدہ چاہتا ہے کہ ان کے درمیان تخالف ہرگز نہ ہونا چاہئے۔اور حقیقت میں ایسا ہی ہے کہ ان دونوں میں بالکل تخالف نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قومی ایک عام لفظ ہے جو کہ قویٰ جسمانیہ اور قومی روحانیہ کے سب اقسام پر بولا جاتا ہے۔ہاں اس میں شک نہیں کہ جسمانی لوگ ( جو کہ جسمانی قومی سے بحث کرنے والے ہوتے ہیں ) جب قویٰ کا لفظ مطلق سواکسی بحث کے بولتے ہیں اور روحانی لوگ ( جو کہ روحانی امور اور روحانی قومی سے بحث کرتے ہیں ) جب اس لفظ کو